اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 306
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 306 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب بارے میں کیا خیال رکھتا ہے۔یا فلاں عزیز میرے بارے میں کیا خیال رکھتا ہے۔یا فلاں دو عورتیں اکٹھی بیٹھی ہوئی ہیں یہ ضرور میرے خلاف، میرے متعلق فلاں بات کر رہی ہوں گی۔تبصرہ کر رہی ہوں گی۔اور ایک ایسی بات جس کا کوئی وجود ہی نہ ہو اس کو پکڑ کر ان دو باتیں کرنے والی عورتوں کے یا دو اکیلی بیٹھی عورتوں کے خلاف دل میں اُبال اٹھتا ہے، دل میں بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں۔اور یہ غصہ اور یہ ابال جو ہے پھر دوسرے کو نقصان پہنچانے سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ایسی عورتیں اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے جو گناہ سر لے رہی ہوتی ہیں وہ تو ہے ہی لیکن اس بدظنی کی وجہ سے ،غصہ کی وجہ سے، دلوں میں بے چینی کی وجہ سے بلاوجہ کی اپنی صحت بھی برباد کر رہی ہوتی ہیں۔اس فکر میں اپنے بلڈ پریشر بھی ہائی (High) کر رہی ہوتی ہیں۔اس زمانے میں دنیا کے اور تھوڑے جھمیلے ہیں، اور مسائل ہیں جو ان بدظنیوں کی وجہ سے زبردستی کے مسائل اپنے اوپر سہیڑے جائیں اور اپنی صحت برباد کی جائے۔اور پھر ایک عورت کیونکہ ایک بیوی بھی ہے، ایک ماں بھی ہے۔اس وجہ سے اپنے خاوند کے لئے بھی مسائل کھڑے کر رہی ہوتی ہے، اپنے بچوں کی تربیت بھی خراب کر رہی ہوتی ہے۔کیونکہ ان بدظنیوں کا پھر گھر میں ذکر چلتا رہتا ہے۔بچوں کے کان میں یہ باتیں پڑتی رہتی ہیں وہ بھی ان باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اثر لیتے ہیں۔ان کی اٹھان بھی اس بدظنی کے ماحول میں ہوتی ہے اور یوں بڑے ہو کر وہ بھی اس وجہ سے اس برائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو ایسی مائیں اس قسم کی باتیں بچوں کے سامنے کر کے جس میں فساد کا خطرہ ہو جو ایک دوسرے کے متعلق دلوں میں رنجشیں پیدا کرنے والی ہوں، جو بدظنیوں میں مبتلا کرنے والی ہوں، جن سے کدورتیں پیدا ہونے کا خطرہ ہو، جہاں اپنے بچوں کو برباد کر رہی ہوتی ہیں وہاں جماعت کی امانتوں کے ساتھ بھی خیانت کر رہی ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان بدظنیوں اور پھر ان کی وجہ سے دوسرے فریق کے بارے میں جو اس کے پیچھے باتیں ہوتی ہیں اپنے گروپ میں بیٹھ کر یا اپنی مجلس میں بیٹھ کر جو تبصرے ہوتے ہیں اس کو غیبت کہا ہے۔اور فرمایا یہ غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔اور کون پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔پھر فرمایا تم پسند نہیں کرتے کہ تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ، تم اس سے کراہت کرتے ہو۔پس ان باتوں سے پر ہیز کرو، ان سے بچو۔اللہ تعالیٰ نے تم پر جو انعام