اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 305

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 305 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب کر نے چھوڑ دو۔ایک دوسرے کی برائیاں کرنی چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو ورنہ یاد رکھو کہ یہ باتیں تمہیں خدا سے دور کر دیں گی۔ان باتوں میں مبتلا ہو کر تم مزید گند میں پڑتی چلی جاؤ گی اور ان حرکتوں کی وجہ سے تم فاسق کہلا ؤ گی۔دوسروں کے نام بگاڑنے کی ممانعت پھر بعض نام رکھ دیتی ہیں۔اس میں یہ بھی فرمایا گیا کہ ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے نہ پکارو۔ایسے نام جو دوسرے کے نام کو بگاڑ کے رکھ دیئے جائیں۔یہ چیزیں بھی ایسی ہیں جو ایمان میں کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا ایسی حرکتیں کرنے کے بعد تمہاری ایمانی حالت جاتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں موقع دیا کہ تم دوہرے انعاموں اور فضلوں کی وارث بنو۔ایک انعام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اور ایک انعام حضرت مسیح موعود کو مان کر تمہیں اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوا۔پس اس انعام کی قدر کرو۔نیکیوں میں آگے بڑھو اور ان بیہودہ اور دنیا داری کی باتوں میں اپنے آپ کو غرق نہ کرو۔تمہارا مقام اب اللہ کی نظر میں بلند ہوا ہے، اس کو بلند کرتی چلی جاؤ۔یہ اعزاز جو تمہیں زمانے کے امام کو مان کر ملا ہے اس اعزاز کو برقرار رکھنے کی کوشش کرو۔اس تعلیم پر عمل کرو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے۔اپنے اخلاق اعلیٰ کرو کہ اسی میں بڑائی ہے۔اور یہ اللہ کے فضلوں کے ساتھ بلند ہوگا۔اور اللہ کے فضلوں کے ساتھ اس صورت میں بلند ہوگا جب تم عاجزی دکھاؤ گی۔جب تم ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھو گی جب تم اپنی جھوٹی انا ؤں اور جھوٹی عزتوں کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے رستہ پر چلنے کی کوشش کرو گی۔پھر آگے اللہ تعالیٰ نے مزید چند باتوں کی وضاحت فرمائی کہ ایک دوسرے کی عزت قائم کرنے کے لئے یہ باتیں بھی ضروری ہیں۔معاشرے کو فساد سے پاک کرنے کے لئے یہ باتیں بھی ضروری ہیں۔ان میں سے ایک ہے بدظنی۔اور بدظنی ایسی چیز ہے جس سے نہ صرف تم دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہو بلکہ اپنی روحانی ابتری کے سامان بھی پیدا کر رہی ہو۔اور باطنی پیدا ہوتی ہے تو دوسروں کی ٹوہ میں رہنے کی بھی عادت پڑتی ہے، تجسس پیدا ہوتا ہے۔ہر وقت دوسروں کی ٹوہ میں رہنے اور اس خیال میں رہنے کی وجہ سے کہ دوسری عورت میرے بارے میں کیا خیال رکھتی ہے یا فلاں شخص میرے