اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 287
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 287 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب وہ پاگل ہو جاتے ہیں۔تو یہ چیزیں کچھ بھی دینے والی نہیں ہیں۔دنیا داری کے دھندے اور دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی خواہش، اپنی اولاد پر ناز اور اپنی دولت کے گھمنڈ کی وجہ سے ان لوگوں کو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی بلکہ عذاب ملتا ہے جیسا میں نے کہا بلکہ جھلسا دینے والی گرم ہوا میں ملتی ہیں اور قسم قسم کے مختلف عذاب ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے۔مختلف جگہوں پر ان عذابوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے لوگوں کی کفار سے مثال دی ہے کہ ان کی مثال تو ایسے ہو جاتی ہے۔لیکن نیک اعمال بجالانے والوں کے لئے اللہ کا خوف دل میں رکھنے والوں کے لئے اس کی رضا کے طلبگاروں کے لئے اس کی مغفرت اور رحمت اور اس کی رضا کی چادر حاصل کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ پھر یہ چیزیں عطا فرماتا ہے اور اپنے سائے میں لے لیتا ہے۔ہر گرمی سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے اور ہر تپش سے مومن کی بچت ہوتی ہے۔اور نہ صرف بچت ہوتی ہے بلکہ اس مغفرت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھ کر زندگی گزارنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے ٹھنڈی ہوائیں ہیں ہمیشہ رہنے والے سبزے ہیں۔آنکھوں کو تازہ کرنے والے نظارے ہیں ، جنت کی مختلف نعمتیں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔اس لئے فرمایا کہ اے مومنو! کسی دھو کے میں نہ رہنا۔شیطان نے تو یہ قسم کھائی ہوئی ہے کہ میں تمہیں دنیا کے گند اور اس کی چکا چوند میں ہر وقت ڈبونے کی کوشش کروں گا اس کی ظاہری خوب صورتی کے نظارے دکھاؤں گا۔اس کی زمینیں تم پر اس طرح ظاہر کروں گا کہ تم بے قرار ہو کر اس کی طرف دوڑتے چلے جاؤ گے۔لیکن یاد رکھو کہ یہ صرف اور صرف شیطان کے دھو کے ہیں۔یہ زندگی کا عارضی سامان ہے جو تمہیں اس دنیا میں بھی خدا سے دور لے جانے والا ہے اور نتیجہ اگلے جہان میں بھی اُن دائی جنتوں سے محروم کرنے والا ہے جن کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ہر احمدی کو اس طرز پر سوچنا چاہئے کہ کیا وہ اپنی زندگی کا مقصد پورا کر رہا ہے پس ایک احمدی کو خواہ وہ عورت ہو یا مرد اس طرز پر سوچنا چاہیے اس طرح سے اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا میں اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کر رہا ہوں۔میں جو یہ دعویٰ کرتا ہوں یا کرتی ہوں کہ