اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 286

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 286 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب کی جو چکا چوند ہے دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جو دوڑ لگی ہوئی ہے اس فکر میں ہی زندگی گزارنی ہے۔یہ فکر ہے کہ میرا گھر فلاں رشتہ دار سے اچھا ہو، میرا گھر زیادہ اچھا سجا ہوا ہو، میرے گھر میں فلاں فلاں چیز بھی ہو، میری کا راعلی قسم کی اور نئی ہو، میرے پاس زیور فلاں عورت کے زیور سے زیادہ اچھا ہو۔فرمایا کہ جان لو کہ تمہاری زندگی کا مقصد یہ نہیں ہے۔بلکہ اس کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی ہوا و ہوس اور کھیل کود میں بسر کرنے والی زندگی اس طرح ہی ہے جس طرح کہ سبزہ، جب بارش پڑتی ہے تو اس کو پانی ملتا ہے تو وہ اور زیادہ خوب صورت اور سرسبز ہو جاتا ہے۔اپنے ماحول میں دیکھیں بارش کے دنوں میں درختوں کا فصلوں پودوں کا رنگ کتنا خوب صورت لگتا ہے۔ہر ایک چیز میں ایک خوبصورتی اور چمک ہوتی ہے۔نکھرا ہوا سبز رنگ ہوتا ہے۔اور ایسی خوبصورتی ہوتی ہے کہ دل چاہتا ہے کہ انسان دیکھتار ہے۔لیکن پھر آہستہ آہستہ ایک وقت آتا ہے کہ اپنی عمر کو پہنچتے ہوئے رنگ بدلنے لگتی ہے۔مثلاً فصلیں ہیں جب فصل اپنی عمر کو پہنچتی ہے تو اس کا رنگ زرد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور جب زمیندار فصل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اب مجھے فائدہ ہوگا۔کٹائی کا وقت قریب آ گیا تو اس وقت اس پر تیز گرم ہوایا آندھی ، طوفان یا اس طرح کی کوئی چیز آجائے تو و ہیں وہ سب کچھ بکھر جاتا ہے اور کسی کام کا نہیں رہتا۔تو فرمایا کہ جولوگ اس دنیا کے سامان کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور آخرت کی ان کو کوئی فکر نہیں ، خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی بھی ان کو کوئی فکر نہیں ہے، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی ان کو کوئی فکر نہیں ہے ان لوگوں کا انجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔مرنے کے بعد ان کے اعمال کی کھیتی ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔نیک اعمال نہ کرنے کی وجہ سے اور دنیا داری میں پڑے رہنے کی وجہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادانہ کرنے کی وجہ سے سب کچھ ریزہ ریزہ ہو کر ضائع ہو جاتا ہے۔دنیا داری کے دھندے اور دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش، اپنی اولاد پر ناز ، اپنی دولت کے گھمنڈ کی وجہ سے ایسے لوگوں کو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی بلکہ عذاب ملتا ہے۔اب بڑے کاروباری لوگوں کو دیکھ لیں جب کاروبار تباہ ہوتے ہیں تو ان کا کچھ بھی نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھکنے کی وجہ سے اتنا اثر ہوتا ہے کہ دماغوں پر اثر ہو جاتا ہے۔بعضوں کے بچے جن پر فخر ہوتا ہے وہ فوت ہو جاتے ہیں، اولاد میں ضائع ہو جاتی ہیں۔جوان اولادیں ہوتی ہیں ان کا اتنا صدمہ اور غم ہوتا ہے کہ۔