اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 288
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 288 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب میں نے آنحضرت کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے کے امام کو مانا ہے میں جو ان خوش قسمتوں میں شامل ہوگئی ہوں جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعة: 4) یعنی اور ان کے سوا وہ دوسری قوم میں بھی اسے بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بگڑی ہوئی قوم کوسیدھے راستہ پر چلا دیا تھا جو دین سے بہت دور جاپڑے تھے، اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔انہیں خدا تعالیٰ کی ایسی پہچان کروادی جو ایک نشان کے طور پر ہے اور ان میں عظیم الشان پاک تبدیلیاں پیدا کر دیں، یہ خلاصہ ہے حضرت مسیح موعود کا جو میں اپنے الفاظ میں پیش کر رہا ہوں۔پھر آگے حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں ہی بیان کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ: ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہو نگے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہو نگے تب ان کو بھی خدا صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہؓ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا“۔جس مقصد کیلئے ہم نے مسیح موعود کو مانا آیا اس میں ہمارے قدم بڑھا رہے ہیں؟ پس ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کیا جس مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود کو مانا ہے ، آپ کی بیعت میں شامل ہوئے ہیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے قدم بڑھ رہے ہیں یا ہم وہیں کھڑے ہیں۔صحابہ نے اپنے اندر کس طرح تبدیلیاں پیدا کیں اور صحابیات نے اپنے اندر کس طرح پاک تبدیلیاں پیدا کیں۔دنیا کے کھیل کو د کو کس طرح انہوں نے ٹھکرادیا۔کس طرح عبادتوں کے معیار قائم کئے۔کس طرح مالی قربانیوں کے معیار انہوں نے قائم کئے۔ایسی ایسی صحابیات بھی تھیں جو ساری ساری رات عبادتیں کرتی تھیں اور دن کو روزے رکھتی تھیں آخر ان کے خاوندوں کی شکایت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلسل سے اتنی زیادہ عبادتیں کرنے سے منع فرمایا۔ان کے خاوندوں کو ان سے یہ شکوہ نہیں تھا کہ وہ دنیا داری میں پڑی ہوئی ہیں، روز نئے نئے مطالبے ہور ہے