اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 240
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 240 جلسہ سالانہ تنزانیہ 2005 مستورات سے خطاب زور دیا جائے۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے اور زیادہ اس کی طرف جھکا جائے کہ خدا تعالیٰ میرے خاوند کو نیکی کی طرف لائے اور وہ میرے حقوق ادا کرنے والا ہو اور اللہ کے حکموں پر عمل کرنے والا ہو۔بچہ بیمار ہے یا کوئی تکلیف ہے تو دنیاوی تدبیر کے ساتھ دعا اور صدقات پر زور دیا جائے۔پھر اس کے علاوہ بھی اور بہت سی مثالیں ہیں جہاں انسان چھوٹے چھوٹے روز مرہ کے معاملات میں خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنے کی بجائے دنیا کی تدبیروں پر بھروسہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ہستی کو بھول جاتا ہے۔اور جب یہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تو اللہ کی طرف جھکنے اور اس کی عبادت کرنے کی طرف بھی توجہ نہیں رہتی۔آئندہ نسلوں کے اندر حقیقی اسلام کا بیج بونا ہے اور اگر عورت میں یہ چیز پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ نسلوں میں بھی بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔اور پھر جو بیج احمدیت اور حقیقی اسلام کا آپ نے اپنے اندر بویا ہے اس کے اعلیٰ اور میٹھے پھل لگنے کے بجائے کڑوے اور بدمزہ پھل لگیں گے۔جو شائد ظاہر میں دیکھنے میں تو اچھے لگیں لیکن حقیقت میں بے فائدہ ہو نگے۔بلکہ ہو سکتا ہے ایسے بچے جب بڑے ہوں تو اور بہت سوں کو بھی بگاڑنے کا باعث بنیں۔پس عورتوں کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو سنبھالنا ہے بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی سنبھالنا ہے۔اور پھر اس آیت میں دوسری بہت سی برائیوں کا بھی ذکر ہے۔چوری نہیں کریں گی۔زنا نہیں کریں گی۔جھوٹے الزام نہیں لگائیں گی۔ان سب برائیوں کا ذکر کر کے یہ بتایا کہ ان برائیوں سے بچنا آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اسی لئے ان برائیوں کو بیان کرتے ہوئے یہ ذکر بھی فرما دیا۔اس بات پر بھی عہد لے لیا کہ اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔اب اولا دکوکون عقل مند قتل کرتا ہے۔عورت جب ماں بننے والی ہوتی ہے تو ماں بننے سے پہلے ہی اس کے اپنے ہونے والے بچے کے لئے پیار اور محبت کے جذبات ہوتے ہیں۔تو جس کے جذبات پہلے سے ایسے ہوں اس کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قتل کرے گی۔پھر بچے کی پیدائش کے بعد کیسی تکلیفیں ماں بچے کو پالنے پوسنے کے لئے برداشت کرتی ہے۔اس کو ہر وقت اپنے ساتھ چمٹائے رکھتی ہے تو کون عقل مند