اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 239

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 239 جلسہ سالانہ تنزانیہ 2005 مستورات سے خطاب ط بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِيْنَ بِبُهْتَانِ يَفْتَرِيْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (الممتحنة: 13) یعنی اے نبی ! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور ) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی (کسی پر ) کوئی جھوٹا الزام لگا ئیں گی جسے وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے گھڑ لیں اور نہ ہی معروف (امور ) میں تیری نافرمانی کریں گی تو تو اُن کی بیعت قبول کر اور اُن کیلئے اللہ سے بخشش طلب کر۔یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔شرک اور بدشگونی اور جادو ٹونے سے بچیں یعنی یہ ایمان والی عورتوں کی نشانی ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتیں۔اب شرک صرف بت پرستی ہی نہیں ہے۔عورتوں میں طبعا طبیعت میں کمزوری اور وہم پایا جاتا ہے۔اور اس کمزوری کی وجہ سے عام طور پر ان سے ایسی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں جو شرک کے زمرے میں آتی ہیں۔مثلاً یہ کہ کوئی عورت یہ خیال کرے کہ میرے خاوند پر فلاں شخص نے کوئی جادوٹو نا کر دیا ہے اور وہ مجھے چھوڑ کر دوسروں میں دلچسپی لینے لگ گیا ہے۔یا یہ خیال کہ میرے بچے پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔اس وجہ سے وہ کمزور ہے یا بیمار ہے۔یا فلاں کام اس طرح ہو گیا ہے جو کہ بدشگونی ہے اور اب میرے قسمت کے تارے گردش میں ہیں اور مجھے نقصان پہنچے گا تو یہ سب باتیں شرک میں شامل ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ شرک کرنے والے سخت گناہ گار ہیں۔ان عورتوں نے یا مردوں نے جو بھی کریں (لیکن یہاں کیونکہ عورتوں کا ذکر ہے اس لئے عورتوں کی مثال لے رہا ہوں۔) یہ گمان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاس طاقت نہیں ہے بلکہ اس جادو ٹو نہ کرنے والے کے پاس طاقت ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ جب بھی ایسی حالت پیدا ہو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق دعاؤں پر زور دیا جائے صدقہ پر