اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 241

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 241 جلسہ سالانہ تنزانیہ 2005 مستورات سے خطاب کہ سکتا ہے کہ عورت اپنے اس بچے کو جسے اس نے اس طرح اپنے ساتھ چمٹایا ہوا ہے قتل کر دے گی۔تو یقیناً اس کا کچھ اور مطلب ہے۔اور وہ وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ جب عورت بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرے گی۔جب اپنے عمل سے اسے یہ نہیں بتائے گی کہ برائی کیا ہے اور اچھائی کیا ہے۔اس وقت تک بچہ صحیح تربیت حاصل نہیں کرے گا۔اور جب بچہ ان برائیوں کو سیکھے گا تو معاشرے کا ایسا حصہ ہو گا جو نقصان دہ ہے اور کاٹے جانے کے لائق ہے۔ایک دفعہ ایک آدمی جس نے جرموں کی انتہا کر دی تھی۔کئی قتل کئے۔کئی ڈاکے ڈالے۔اور دوسرے کئی قسم کے بے انتہا جرم کئے۔وہ پکڑا گیا اور ان جرموں کی وجہ سے اسے پھانسی کی سزا ہوئی۔تو جب پھانسی پر لٹکانے لگے تو اس سے پوچھا تیری کوئی خواہش ہے؟ اس نے کہا۔ہاں میری ایک خواہش ہے۔اور وہ یہ کہ پھانسی پر جانے سے پہلے مجھے میری ماں سے ملوا دو اور اس کو بالکل میرے قریب لے آؤ اور سب پیچھے ہٹ جائیں۔چنانچہ اس کی یہ خواہش جب پوری کی گئی تو اس نے اپنی ماں کو کہا پھانسی چڑھنے سے پہلے تجھے پیار کرنا چاہتا ہوں لیکن پیار بھی تیری زبان پر کرنا چاہتا ہوں چنانچہ ماں نے بچے کی خواہش کے مطابق اپنی زبان باہر نکالی تو اس شخص نے اپنی ماں کی زبان کو اپنے دانتوں سے اس زور سے کاٹا کہ وہ آدھی علیحدہ ہوگئی۔ماں درد کی شدت سے شور مچانے لگی۔جیل کے سپاہی جو ساتھ کھڑے تھے وہ دوڑے ہوئے آئے اور اُسے کہا بے شرم انسان تجھے شرم نہیں آئی کہ اتنے جرم کرنے کے بعد تجھے پھانسی لگ رہی ہے اور آج کوئی نیک کام کرنے کی بجائے تو نے اپنی ماں کی زبان کاٹ دی تو اس نے کہا آج ہی تو میں نے نیک کام کیا ہے۔میں نے جب چھوٹے چھوٹے جرم کرنے شروع کئے تھے تو لوگ جب میری شکایت کرتے تھے تو میری ماں میری طرفداری کرتی تھی۔اور باوجود پتہ ہونے کے مجھے ان کاموں سے روکتی نہیں تھی۔جس سے مجھے آہستہ آہستہ جرأت پیدا ہوئی اور میں بڑا مجرم بن گیا۔اگر میری ماں کی یہ زبان مجھے اس وقت نیکی اور برائی کی تمیز سکھاتی تو میں مجرم نہ بنتا۔پس میں نے اپنے ساتھ اپنی ماں کو جو سزا دی ہے وہ جائز ہے۔اور ایسی ماؤں کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے۔تو دیکھیں بری تربیت کی وجہ سے جو اخلاقی قتل بچے کا ہوتا ہے وہ تو ہوتا ہی ہے۔اس شخص کا جسمانی قتل بھی پھانسی چڑھ کر ہو گیا۔پس ہمیشہ بچوں کی نیک تربیت کی طرف توجہ دیں تا کہ انہیں قتل ہونے سے بچا ئیں۔جو عورتیں گھر