اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 202

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 202 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دُور پڑا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو، بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست، ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے، اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس کا تر ڈد نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہوگا۔پس اگر کوئی اس سے یہ وہ ڈونہ مواخذہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے۔نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور اس کے ارادے سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرنا“۔الحکم قادیان مورخہ 10/اگست 1901 ء صفحه 2) آپ نے بڑی وضاحت سے فرمایا کہ تمہارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہونا چاہئے کیونکہ فطرت صحیحہ یہی ہے۔انسان کی فطرت جس پر وہ پیدا کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکے۔لیکن اگر اس کی عبادت نہیں کرتے ، اس کے آگے نہیں جھکتے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی پابند نہیں کہ مشکلات میں یا تکلیف میں ضرور ان کی مدد کو آئے اور ان پر اپنا فضل فرمائے جو اس کی عبادت نہیں کرتے۔پس اگر اس کا فضل حاصل کرنا ہے تو اس کی عبادت بھی کرنی ہوگی۔فرمایا تمہارے دنیاوی کام کاج ہیں، ان کو بھی کرو، ملازمتیں بھی کرو، کاروبار بھی کرو، زمیندار ہو تو زمینداری بھی کرو لیکن تمہارا مقصد بہر حال اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی عبادت میں ہے۔عام دنیاوی معاملات میں بھی جب انسان کسی چیز کا مالک ہو تو اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے۔ملازم بھی رکھتا ہے تو اس کو یہی حکم ہوتا ہے کہ تم نے