اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 201

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 201 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) کے نمونے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائے ہیں اور پھر اس زمانے میں احمدی کے لئے خاص طور پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان نمونوں کو اور قرآن کریم کو صحیح طور پر سمجھ کر اس کی تفسیر ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔اس لئے ہمیں اس زمانے میں ان احکامات کو سمجھنے کیلئے اور ان پر پابندی اختیار کرنے کیلئے اُسی طرح عمل کرنا ہوگا اور انہیں لائنوں پر چلنا ہو گا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سمجھائی ہیں اور انہیں رستوں پر چل کے ہم نیکیوں اور عبادت کے طریقوں پر قائم بھی رہ سکتے ہیں۔انسانی پیدائش کا مقصد آپ فرماتے ہیں کہ : چونکہ انسان فطرتا خدا ہی کے لئے پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون (الذاريات: 57) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالی کی ذمہ داری ان کے لئے نہیں رہتی۔وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ“ یعنی اللہ تعالی کی ذمہ داری بھی اس وقت ہے جب اس کے احکامات پر عمل کرو گے اور اس کی عبادت کرو گے۔فرمایا کہ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا۔لِيَعْبُدُون پر ایمان لا کر زندگی کا پہلو بدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔تم