اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 203

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 203 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) میرے بتائے ہوئے طریق پر کام کرنا ہے اور کسی دوسرے کی بات نہیں مانتی۔تو اللہ تعالیٰ جورب بھی ہے، مالک بھی ہے، معبود بھی ہے، اس کی بات ماننے سے ہمیں کیونکر اعتراض پیدا ہوتا ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کچھ وضاحت کی ہے۔یہ ان لوگوں کا اعتراض جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں، اس کی یہ خواہش ہے۔اس میں اس اعتراض کا بھی جواب دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: بظاہر یہ تعلیم کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندہ کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے خود غرضانہ معلوم دیتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ بندے کی عبادت کا محتاج ہے۔لیکن اگر قرآن پر غور کیا جائے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم بوضاحت بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی عبادت کا محتاج نہیں ہے۔چنانچہ سورۂ عنکبوت رکوع اول میں ہے کہ وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ۔ط إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ (العنكبوت :7 ) یعنی جو شخص کسی قسم کی جدو جہد روحانی ترقیات کے لئے کرتا ہے وہ خود اپنے نفس کے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات اور ان کے ہر قسم کے افعال سے غنی ہوتا ہے“۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے کہ بندہ کیا کرتا ہے، کیا نہیں کرتا۔آگے اس بارے میں ایک تفصیلی حدیث بھی میں بیان کروں گا۔جو کچھ کرتا ہے انسان اپنے فائدے کیلئے کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ حجرات میں فرماتا ہے کہ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ (الحجرات : 18) یعنی مذہب اسلام کو قبول کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان نہیں نہ خدا تعالیٰ پر ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے وہ طریق بتایا جو لوگوں کی