اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 176
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 176 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004ء لجنہ سے خطاب اپنے بچوں کی نگرانی کریں آیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں یا نہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں ان کی اہتمام سے ادائیگی کرنی چاہئے۔پھر اپنے بچوں کی نگرانی کریں آیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں یا نہیں۔اگر ماں باپ نمازیں پڑھ رہے ہوں گے تو بچے خود بخود اس کے عادی ہو جائیں گے۔بہر حال ماں، کیونکہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، اپنے خاوند کے گھروں کی بھی نگران ہے تو اس لحاظ سے گھر کے مال اور سامان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے نگرانی کرنے کی حفاظت کرنے کی ، اپنے خاوندوں کی اولاد کی، ان کی نسل کی اپنی اولاد کی کہ انہیں خدا کا قرب حاصل کرنے والا بنائیں۔بچوں کی نگرانی کریں۔گھر میں سات سال کی عمر سے بچوں کو نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔10 سال کے بچے ہوں تو پابندی کروائیں کہ وہ نماز پڑھیں۔جب بچوں کو نمازوں کی عادت ہو جائے گی تو انہیں بہت سی برائیوں سے بچنے کی بھی توفیق ملے گی۔بڑے ہو کر سکولوں اور کالجوں میں جا کر یو نیورسٹیوں میں جا کر، دوستوں میں بیٹھ کر نو جوانی کی عمر میں جو بعض غلط قسم کی باتیں بچے سیکھ جاتے ہیں۔اگر عبادت کرنے والے ہوں گے، اگر بچوں کے ماں باپ نمازیں پڑھنے والے ہوں گے، تو بچے گندی حرکتیں ، باتیں یا فضولیات اور لغویات جو ہیں یہ سیکھ ہی نہیں سکتے۔اس لئے ماؤں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی ٹرینینگ کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں بتا دیا ہے کہ جو عبادت کرنے والے ہیں وہ برائیوں میں نہیں پڑا کرتے جیسا کہ فرمایا کہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: 46) یعنی یقیناً نماز سب بری اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔اگر والدین نمازی ہوں تو ان کے عمل کی وجہ سے بچے کبھی نہیں بگڑتے ماؤں باپوں کو شکوہ ہوتا ہے، بعض دفعہ آتے ہیں میل ملاقات کے لئے ، کہ ہمارے بچے بگڑ رہے ہیں ، یہاں کے معاشرے کا ان پر اثر ہورہا ہے۔اگر ماں باپ خود بھی اپنے ایمانوں کو مضبوط کر رہے