اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 177

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 177 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004 ء لجنہ سے خطاب ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کی مکمل فرمانبرداری کر رہے ہوتے ، عبادات کی طرف توجہ ہوتی اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالتے ، بچپن سے ہی پیار سے محبت سے سمجھاتے کہ عبادت کرنی چاہئے ، نماز پڑھنی چاہئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ہدایت اور یہ حکم جو ہے اس پر عمل کرنے کی برکت سے بچے کبھی نہ بگڑتے۔بلکہ ان لوگوں میں شمار ہوتے جو عمر کے ساتھ ساتھ ، عقل پیدا ہونے کے ساتھ ، شعور حاصل ہونے کے ساتھ ایمان میں ترقی کرنے والے ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نسلوں کو بچانے کے، اپنے آپ کو بچانے کے طریقے بھی سکھا دیئے ہیں۔اگر ہم عمل نہ کریں تو پھر یہ تو ہمارا قصور ہے۔اکثر جب میں نے پوچھا ہے ماں باپ سے تو کافی تعداد میں ماں باپ ایسے ہیں جو نمازوں میں با قاعدہ نہیں ہیں۔اس لئے ہوش کریں اور ابھی سے اس طرف توجہ دیں۔اپنے آپ کو بھی سنبھالیں۔اپنے بچوں کو بھی سنبھالیں ، اپنی نسلوں کو بھی سنبھالیں۔اور اپنے ایمان کی بھی حفاظت کریں اور اپنی نسلوں کے ایمانوں کی بھی حفاظت کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں میں شمار ہوں۔عام طور پر دونوں میاں بیوی کہ دیتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں بچوں کی تربیت بھی کرتے ہیں پتہ نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری نمازوں کے باوجود ان کی تربیت صحیح نہیں ہو رہی۔وجہ یہ ہے کہ ہماری نمازوں کا، ایمان کی مضبوطی کا جو حق ہے وہ ہم نے ادا نہیں کیا۔اس لئے اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ ماں باپ بچپن میں ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں۔اس سے بھی ایک عمر کے بعد بچہ بگڑ جاتا ہے۔بہر حال مختصر یہ ہے کہ نمازوں کی عادت ڈالنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی۔اب بھی اگر ماں باپ خود نمازی بن جائیں تو بچے ایک وقت میں آپ کی دعاؤں کی وجہ سے سدھر جائیں گے۔اگر بچہ احدیت پر قائم ہے اور جو بھی احمدیت پر قائم ہو تو انشاء اللہ تعالی ایک وقت آئے گا کہ وہ نیکیوں کی طرف بھی آجائے گا۔اور یہ بہر حال ضروری ہے کہ ایمانوں کی مضبوطی کے لئے نیکیوں میں آگے قدم بڑھانے کی شرط ہے۔اور نیکیوں پر قائم ہونے کے لئے سب سے زیادہ ضروری بات جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے۔اس کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری ہے۔جب مکمل فرمانبرداری ہوگی تو پھر سچائی پر بھی قائم ہونے والی ہوں گی۔دنیاوی مفاد یا دنیاوی فائدے پہنچانے والی باتیں آپ کو خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے روکنے والی نہیں