اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 175
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 175 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004ء لجنہ سے خطاب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام لانے کے بعد تم اپنے اندر جب تک تبدیلیاں پیدا نہیں کرتے اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتے۔اور مومن کہلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین ہونا چاہئے ، اس کی صفات پر مکمل یقین ہونا چاہئے۔اس بات پر یقین ہو کہ اس کے احکامات پر عمل کرنے والے جو ہیں وہی تباہی سے بچ سکتے ہیں۔اگر اس کے احکامات پر عمل نہ کیا تو تباہی کی طرف جا سکتے ہیں۔اس بات پر یقین ہو کہ ہر بڑی سے بڑی چیز سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی چیز تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب چیزیں بیچ ہیں۔کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اگر یہ یقین ہو کہ اگر خدا نہ چاہے تو مجھے دنیا کا بڑے سے بڑا آدمی بابا دشاہ بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر خدا تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت اس میں روک نہیں ڈال سکتی۔تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر مکمل اور کامل یقین ہونا چاہئے۔اور یہ خیال رہے کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچانا چاہتا ہے، مجھے کوئی چیز دینا چاہتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس میں کوئی روک نہیں ڈال سکتی۔اللہ تعالیٰ نے عبادت کے جو طریق بتائے ہیں اس کے مطابق، ان کے مطابق ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہنا چاہئے گویا کہ ہمیشہ اپنی روحانی حالت کو بڑھاتے چلے جانا ہے۔اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کا تخت بنانا ہے اور جب دل کو اللہ تعالیٰ کا تخت بنانا ہے تو پھر شیطان کو دل سے نکالنا ہوگا۔پھر شیطان کی اس دل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ،اس کو نکال کر باہر پھینکنا ہو گا، دنیا داری کی تمام باتوں کو دل سے نکالنا ہو گا۔گویا روحانیت کی منازل طے کرنے کی طرف قدم بڑھانا ہے تو تقویٰ پر چلنا ہے اور یہ اس وقت ہی ہو گا جب مکمل فرمانبرداری ہوگی ، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میری عبادت کرو۔پانچ وقت کی نمازیں تم پر فرض ہیں انہیں ادا کرو۔بلکہ ایک جگہ تو یہ فرمایا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاريات: 56) یعنی میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری عبادت کریں۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت تو ایک عام مسلمان بلکہ انسان کے لئے ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے ایمان میں ترقی کرنے والوں کو تو بہت بڑھ کر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔