اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 151

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 151 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب ٹھوکر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔انہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقعہ پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دو جمع ہوں ، تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔اُن نا پاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔یعنی کہ اتنی آزادی والی تعلیم سے بھگت رہا ہے۔جہاں کوئی شرم و حیا ہی نہیں رہی اور بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یا درکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گئی۔اس خوش فہمی میں نہ پڑے رہو کہ معاشرہ ٹھیک ہے ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا، یہاں کے ماحول میں پردے کی ضرورت نہیں کیونکہ لوگوں کو دیکھنے کی عادت نہیں۔فرمایا کہ اگر یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں یا درکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ میں آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خودکشیاں دیکھیں“۔( یہ بھی خود کشیوں کا یہاں جو اتنا ہائی ریٹ (High rate) ہے اس کی بھی ایک یہی وجہ ہے۔) " بعض شریف عورتوں کا طوائفا نہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کیلئے دی گئی۔( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن ، صفحہ 21-22) تو آج بھی دیکھ لیں کہ جس بات کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نشاندہی فرمار ہے ہیں جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں اسی کی وجہ سے بے اعتمادی پیدا ہوئی اور اس بے اعتمادی کی وجہ