اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 150
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 150 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب لئے پیدا ہوتی ہے جب بعض بچیاں سکولوں کالجوں میں جھینپ کر یا شرما کر اپنے برقعے اتار دیتی ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ کسی قسم کے کمپلیکس میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنے میں برکت ہے۔تیسری دنیا کے ایسے ممالک افریقہ وغیرہ جو بہت پسماندہ ہیں وہاں تو جوں جوں تعلیم اور تربیت ہو رہی ہے اور لوگ جماعت میں شامل ہور ہے ہیں اپنے لباسوں کو ڈھکا ہوا بنا کر پردے کی طرف آرہے ہیں۔اور ان خاندانوں کی بعض بچیاں جہاں برقع کا رواج تھا برقع اتار کر اگر جین بلاؤز پہننا شروع کر دیں تو انتہائی قابل فکر بات ہے۔ہم تو دنیا کی تربیت کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں۔اپنوں میں اسلامی روایات اور احکامات کی پابندی نہ کرنے والوں کو دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کن کن لوگوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت دیتا ہے اس بارے میں فرمایا کہ خاوند، باپ،سر یا خاوندوں کے بیٹے اگر دوسری شادی ہے پہلے خاوند کی اگر کوئی اولاد تھی تو ، بھائی ، بھتیجے ، بھانجے یا اپنی ماحول کی عورتیں جو پاک دامن عورتیں ہوں جن کے بارے میں تمہیں پتہ ہو۔کیونکہ ایسی عورتیں جو برائیوں میں مشہور ہیں ان کو بھی گھروں میں گھنے یا ان سے تعلقات بڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ان کے علاوہ یہ جو چند رشتے بتائے گئے اس کے علاوہ ہر ایک سے پردے کی ضرورت ہے۔پھر یہ بھی فرما دیا کہ تمہاری چال بھی باوقار ہونی چاہئے۔ایسی نہ ہو جو خواہ مخواہ بد کردار شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی ہو اور اس کو یوں موقع دو۔اگر اس طرح عمل کرو گے، تو بہ کی طرف توجہ کرو گے تا کہ خیالات بھی پاکیزہ رہیں تو اسی میں تمہاری کامیابی ہوگی اور اسی میں تمہاری عزت ہو گی ، اور اسی میں تمہارا مقام بلند ہوگا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " آج کل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں۔( یعنی قید خانہ نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکھٹے بلا تامل اور بے محابہ مل سکیں ، سیر میں کریں کیونکر جذبات نفس سے اضطراراً