اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 152

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 152 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب سے گھر اجڑتے ہیں اور طلاقیں ہوتی ہیں۔یہاں جوان مغربی ممالک میں ستر ، اسی فیصد طلاقوں کی شرح ہے یہ آزاد معاشرے کی وجہ ہی ہے۔یہ چیزیں برائیوں کی طرف لے جاتی ہیں اور پھر گھر اُجڑ نے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: پردے کا اتنا تشدد جائز نہیں ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کوئی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔دینِ اسلام میں تنگی و حرج نہیں۔جو شخص خوانخواہ تنگی و حرج کرتا ہے وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔گورنمنٹ نے بھی پردہ میں کوئی تنگی نہیں کی اور اب قواعد بھی بہت آسان بنا دیئے ہیں۔جو جو تجاویز و اصلاحات لوگ پیش کرتے ہیں گورنمنٹ انہیں توجہ سے سنتی اور ان پر مناسب اور مصلحت وقت کے مطابق عمل کرتی ہے۔کوئی شخص مجھے یہ تو بتائے کہ پردہ میں نبض دکھانا کہاں منع کیا ہے۔( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن ، ص 171) ایک تو یہ فرمایا کہ بعض عورتوں کی پیدائش کے وقت اگر مرد ڈاکٹروں کو بھی دکھانا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے۔وہاں جو بعض مرد غیرت کھا جاتے ہیں کہ مردوں کو نہیں دکھانا وہ بھی منع ہے۔ضرورت کے وقت مرد ڈاکٹروں کے سامنے پیش ہونا کوئی ایسی بات نہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: اسلامی پردہ پر اعتراض کرنا ان کی جہالت ہے۔“ یعنی یورپین لوگوں کی یا جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ پردہ نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے پردہ کا ایسا حکم دیا ہی نہیں جس پر اعتراض وارد ہو۔قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ نغض بصر کریں۔جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا ہے کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھو۔افسوس کی بات ہے کہ انجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا ہے؟ نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔اس تعلیم کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ اُن لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں۔اُن کو معلوم ہوگا کہ لندن کے