اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 149

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 149 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب کی حفاظت کیا کریں، اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں،سوائے اس کے کہ جو اس میں سے از خود ظاہر ہو، اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔اور اپنی زیتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیر نگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی (جنسی) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر ) وہ ظاہر کر دیا جائے جو ( عورتیں عموماً ) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکوتا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ پہلی بات تو یہ بتائی کہ جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں ، عورتوں کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی کریں ، آنکھوں میں حیا نظر آئے تا کہ کسی کو جرات نہ ہو کہ کبھی کسی قسم کا کوئی غلط مطلب لے سکے۔تم باہر نکلتے وقت اس طرح اپنی چادر یا برقع یا حجاب وغیرہ لو کہ سامنے کا کپڑا اتنا لمبا ہو جو گریبانوں کو ڈھانک لے۔حضرت مصلح موعود نے اس کی تشریح کی ہے قمیض کا جو چاک سامنے کا ہوتا ہے جو بھن جو گریبان ہے اس تک نیچے تک آنا چاہئے۔اور ہاتھ پاؤں وغیرہ جن کا نظر آنا مجبوری ہے وہ تو خیر کوئی بات نہیں، ظاہر ہے نظر آئیں گے۔بہر حال یہ ہے کہ تمہاری زمینیں ظاہر نہ ہوں۔بعض عورتوں نے برقعوں کو اتنا فیشن ایبل بنالیا ہے کہ برقع کا کوٹ جو ہے وہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ وہ ایک تنگ قمیص کے برابر ہی ہو جاتا ہے۔پردہ کا اصل مقصد تو زینت چھپانا ہے، نہ کہ فیشن کرنا۔تو یہ تنگ کوٹ سے پورا نہیں ہوسکتا۔حضرت مصلح موعودؓ نے مختلف صورتیں بیان کرنے کے بعد فر مایا تھا کہ آج کل عربوں یا ترکوں میں جو رواج ہے برقعے کا یہ بڑا اچھا ہے۔لیکن وہی کہ کوٹ کھلا ہونا چاہئے۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکثریت ایسی خواتین کی ہے جو بعض قسم کے کوٹوں کو پسند نہیں کرتیں اور اگر کسی کا دیکھ لیں تو خط لکھتی رہتی ہیں اور بہت سوں نے ایک دفعہ سمجھانے کے بعد اپنی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔لیکن فکر اس