اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 148

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل ملے گی۔148 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : مومن کو نہیں چاہئے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے بلکہ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (النور: 31) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہئے اور بدنظری کے اسباب سے بچنا چاہئے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 533 جدید ایڈیشن) تو مومن کو تو یہ حکم ہے کہ نظریں نیچی کرو اور اس طرح عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھو۔اور ویسے بھی بلا وجہ دیکھنے کا جس سے کوئی واسطہ تعلق نہ ہو کوئی جواز نہیں ہے۔لیکن عموماً معاشرے میں عورت کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ اس کی طرف توجہ اس طرح پیدا ہو جو بعد میں دوستیوں تک پہنچ جائے۔اگر پردہ ہو گا تو وہ اس سلسلے میں کافی مددگار ہوگا۔اور پردہ کرنے کے بھی اللہ تعالیٰ نے احکامات بتا دیئے کہ کون کون سے رشتے ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے پردہ نہ کرنے کی اجازت دی ہے اور باقی سب سے پردہ کرنے کی تعلیم۔فرمایا: وَقُلْ لِلْمُؤْمِنتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِ هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِ هِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ص وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَا ئِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْرِ أولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ مِن وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِينَتِهِنَّ طَ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ص ( سورة النور : 32) اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اپنی شرمگاہوں