اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 122
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 122 جلسہ سالانہ کینیڈ 20041 مستورات سے خطاب ہوتا۔باہر تو یہ اظہار ہو، برقعہ پہن کر آ رہی ہوں۔مسجد میں تو حجاب میں اور کوٹ میں ہوں لیکن گھر وں میں بیہودہ فلمیں دیکھی جا رہی ہوں۔بعض گھروں کی شکایتیں آتی ہیں کہ وہاں فلمیں دیکھتے ہیں۔بعض بچے شکایت کر دیتے ہیں کہ ہماری مائیں ایسی فلمیں دیکھتی ہیں۔پھر جیسا کہ فرمایا کہ کان بھی فروج میں داخل ہیں۔اگر آپ ایسی مجلسوں میں بیٹھتی ہیں جہاں بیہودہ گوئیاں ہو رہی ہیں، دوسروں کا ہنسی مذاق اڑایا جارہا ہے۔یا نظام جماعت کے خلاف کوئی باتیں ہو رہی ہیں۔یا کسی عہدیدار کے خلاف کوئی باتیں ہو رہی ہیں تو یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے فروج کی حفاظت کرنے والی نہیں ہیں۔کیونکہ آپ بھی چاہے بول رہی ہیں یا نہیں مگر وہاں بیٹھ کر اس استہزا میں، اس مذاق میں، اس بیہودہ مذاق میں شامل ہو گئی ہیں اور اپنے ذہن کو بلا وجہ گندہ کر رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ آہستہ آہستہ یہ باتیں آپ کی تمام نیکیوں کو کھا جائیں گی۔اس لئے ایسی مجلسوں سے بھی بچیں۔اسلامی پردہ کا مقصد پردہ کے معاملات بعض دفعہ زیادہ سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے اب میں پہلی بات کو دوبارہ لیتا ہوں۔پردہ کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں ان کی تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔اور یہ وضاحت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سے کروں گا۔آپ فرماتے ہیں: ”اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مرادنہیں ہے کہ عورت جیل خانے کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔یعنی اپنے آپ کو ڈھانک کر رکھیں۔” وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 297-298 جدید ایڈیشن) تو جیسا کہ میں نے پہلے بتایا آپ نے ایک اور جگہ فرمایا: نظر کا پردہ یہی ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو