اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 121
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 121 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب اندر جو احکامات ہیں، اس کی جو خوبصورت تعلیم ہے، اس کا جو حسن ہے وہ بھی آپ کو نظر آئے۔تو روزے اس وقت روزے کہلا سکتے ہیں جب عبادات سے سجائے ہوئے ہوں۔اور جب عبادات کی طرف توجہ پیدا ہو گی تو دنیا داری سے ایسے ہی ذہن صاف ہو جائے گا، دنیا داری ذہن سے بالکل نکل جائے گی۔اور جب دنیا داری آپ کے ذہنوں سے نکل گئی تو سمجھ لیں کہ آپ نے وہ مقصد پا لیا جس کے لئے آپ پیدا کی گئی ہیں۔اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والیاں ہوں پھر کامل ایمان والوں کی ایک نشانی یا خصوصیت یہ بتائی گئی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان بخشش کا سلوک کرے گا کہ وہ فروج کی حفاظت کرنے والی ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد جسم کا ہر سوراخ ہے۔یعنی آنکھ ، کان ، ناک، منہ وغیرہ ہر چیز۔فرمایا اگر ان کی حفاظت کر لو تو تمہارے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔تمہارے ذہن پاک رہیں گے۔فروج کی حفاظت کے ساتھ دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ غض بصر سے کام لو، یعنی نگاہیں نیچی رکھو۔نہ غیر مرد کو دیکھو، نہ غیر ضروری چیزوں کو دیکھو جن سے ذہن میں انتشار پیدا ہوتا ہو۔جس سے ذہن میں برے خیالات پیدا ہوتے ہوں۔اگر پردہ کر کے برقعہ پہن کر ہر آنے جانے والے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیں تو اس سے پردے کا تو کوئی فائدہ نہیں۔یہ تو لباس ہے جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔نظروں میں حیا ہونی چاہئے ، نظریں نیچی رہنی چاہئیں یہ قرآن کریم کا حکم ہے۔اگر ایسی حالت رکھیں گی تو خود بھی غیروں کو دیکھنے سے محفوظ رہیں گی اور خود بھی بہت ساری برائیوں سے بچ جائیں گی۔اور مرد بھی جن میں بعضوں کو گھورنے کی عادت ہوتی ہے وہ بھی احتیاط کریں گے۔وہ بھی ڈر کے رہیں گے۔اسی طرح گندی، بیہودہ فضول فلمیں دیکھنا بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔اگر آپ یہ دیکھ رہی ہیں چاہے اکیلی بیٹھ کر دیکھ رہی ہیں تو تب بھی اس ماحول میں آپ کے ذہن کے ساتھ ساتھ آپ کے بچوں پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہو گا۔بلکہ آپ کا ذہن ہی اس میں اتنا ڈوبتا چلا جائے گا کہ آپ کو نیکی کرنے کی توجہ ہی پیدا نہیں ہوگی اور پھر اس طرح آپ اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کر سکیں گی کیونکہ یہ فلمیں آپ کے خیالات کو ، جیسا کہ میں نے کہا، پراگندہ کرنے والی ہوں گی۔ان کا کوئی فائدہ نہیں