اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 123
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 123 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب اوران میں حیا ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : جکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں“۔(یعنی قید خانہ نہیں۔بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں۔جب پردہ ہو گا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے“۔(یعنی ایک انصاف کرنے والا کہہ سکتا ہے جس کا پردے کے خلاف یا پردے کے حق میں کسی قسم کا رجحان نہیں ہے جو انصاف پر قائم ہونے والا ہو ) کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مردو عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں، سیریں کریں، کیونکر جذبات نفس سے اضطرار اٹھو کر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔انہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقعہ پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مردو عورت ہر دو جمع ہوں، تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے“۔( یعنی اس کھلی کھلی ہے حیائی کی اجازت دینے سے جو یورپ میں ہے۔اور آپ دیکھ رہے ہوں گے ہر گلی میں، ہر سڑک پر ایسی بے حیائیاں نظر آ جاتی ہیں۔) پھر فرمایا کہ: د بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یادرکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی