اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 65
حضرت خلیلہ اسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۵ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء حصہ ڈالواور Paying Guest ہو ورنہ یہاں سے نکل جاؤ۔اُس کے نتیجے میں ، نئی نسل کے دل میں پرانی نسل کے لئے ایک نفرت پیدا ہوتی ہے اور وہ جو گزشتہ احسان کا سلوک تھا، وہ اثر ڈالنے کی بجائے ، انتقام کے جذبے پرورش پانے لگتے ہیں۔یہاں تک کہ اکثر صورتوں میں اب یہ گھر اس طرح اُجڑ گئے ہیں کہ ماں باپ اولاد کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں رہے اور اولاد ماں باپ کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں رہی اسلام نے نہ صرف اس کی طرف توجہ دلائی، بلکہ دعا سکھائی کہ یہ دعا کرتے رہنا۔ذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ ہمیں اپنی اولاد کی طرف سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما و اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں ایک ایسی متقی اولاد پیچھے چھوڑنے کی توفیق بخش کہ ہم متقیوں کے امام کہلائیں۔آئندہ نسلیں جب نظر ڈالیں تو ہمیں دعائیں دیں کہ کیسی پاکیزہ ، کیسی نیک اولا د چھوڑ کر پیچھے گئے تھے۔متقیوں کا امام اپنے اندر ایک اور پیغام بھی آپ کیلئے رکھتا ہے اور بہت وسیع پیغام ہے۔مراد یہ ہے کہ اس بات پر راضی نہ رہو کہ تمہارے بچے تمہارے حقوق ادا کر رہے ہیں۔جب تک کہ وہ بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے والے بچے نہیں بن جاتے اُس وقت تک تم اطمینان پانے کے اہل نہیں اس لئے یہ دعا کرنا کہ اے خدا ہم محض خود غرضی کے طور پر اپنی اولا دکو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ ہم انہیں تمام بنی نوع انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنانا چاہتے ہیں تو انہیں متقی بنادینا اور متقی سے مراد قرآنی تعریف کے مطابق یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا خوف پیش نظر رکھتے ہوئے ہر دوسرے کے حقوق کو ادا کرنے میں اول حیثیت اختیار کرتا ہو۔یہاں تک کہ اپنے حقوق غیر کی خاطر چھوڑ کر بھی دوسرے کا خیال کرنے والا ہو اس کو متقی کہتے ہیں تو اس عائلی تعلق میں اس آیت کا مفہوم بالکل اور ہو جاتا ہے۔محض عام متقی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اے خدا ہم تجھ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ ہماری اولا دصرف ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک نہ بنے بلکہ تمام بنی نوع انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے ، اس سے دنیا کوثر نہ پہنچے دنیا کو خیر پہنچے۔مضمون کا یہ پہلو ، یہ حصہ ابھی بہت باقی ہے، لیکن وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے میں اس مضمون کو یہیں ختم کرتا ہوں کیونکہ آئندہ اس کے بعد جو پروگرام چلنے ہیں ان میں زیادہ لمبا کرنے کی ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔مشکل یہ ہے کہ لندن سے جو بسیں چلتی ہیں، مختلف محلوں کے احمدیوں کو اور اُن کے مہمانوں کو لے کر آتی ہیں۔یہاں کے قوانین کے مطابق اُن ڈرائیوروں سے جو معاہدہ ہے کمپنیوں کا ، وہ خاص وقت سے زیادہ اُن سے خدمت لے ہی نہیں سکتے۔یعنی اُن کو یہ بھی حق ہے کہ اگر اُن کا