اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 66
حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۶ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء وقت ختم ہو جائے تو جہاں بس ہے وہاں کھڑی کر کے بیٹھ جائیں کہ بس ہمارا وقت ختم ہو گیا ہے۔اگر چہ اس طرح وہ استعمال نہیں کرتے اس حق کو لیکن یہ ضرور اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں عین وقت پر رخصت کیا جائے اور اتنا خیال رکھا جائے کہ اگر ہم نے ایک گھنٹے میں تمہیں وہاں پہنچانا ہے تو ایک گھنٹہ پہلے ہم یہاں سے چل پڑیں گے اور اس بارے میں وہ بنی کرتے ہیں۔تو کل جب پروگرام لمبے ہو گئے تھے تو یہی مشکل پیش آئی تھی کہ جلسے کے دوران ہی لوگوں کو اُٹھ کر جانا پڑا۔اس ضمن میں میں آپ کو ایک آخری بات کہہ کر اب آپ سے اجازت چاہوں گا۔یہ مضمون تو انشاء اللہ تعالی آئندہ چلتے رہیں گے۔آئندہ جلسے بھی آنے ہیں، اور بھی مواقع ہیں۔جہاں اس تعلیم کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا جائے گا اور اس کی بڑی شدید ضرورت ہے۔آج احمدی عورت کو ایسے ہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہونا چاہئے اور مسلح ہونا چاہئے۔جو عورت پر عورت کے تعلق میں اسلامی تعلیم پر حملہ کرنے والوں کے دفاع کے لئے ضروری ہیں بلکہ جارحانہ اسلحہ سے بھی آپ کو مسلح ہونا چاہئے۔مرد جب اسلامی تعلیم کا دفاع کرتے ہیں عورت کے معاملے میں اگر مؤثر اور مضبوط دفاع ہو تو کسی حد تک دنیا اُسے قبول کر لیتی ہے مگر پوری طرح باہر کی عورت اطمینان پا نہیں سکتی ، جب تک اسلامی عورت اسلامی تعلیم کا دفاع نہ کرے اور اسلامی عورت اسلامی تعلیم کا دفاع کر نہیں سکتی ، جب تک اُس کا دل پوری طرح مطمئن نہ ہو۔اس کی جان کی گہرائیوں تک جب تک وہ تعلیم محبت کے ساتھ نہ اتر چکی ہو، جب تک اُس کے وجود کا حصہ نہ بن چکی ہو، جب تک اس کے فلسفے سے واقف نہ ہو چکی ہواُس وقت تک حقیقی معنوں میں پوری شدت اور زور اور قوت کے ساتھ وہ اسلامی تعلیمات کا دفاع نہیں کر سکتی اس لئے آپ کے اگر حقوق برابر ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ کے فرائض بھی برابر ہیں اور اس میدان میں آپ کو اسلام کا دفاع کرنا ہے۔تو یہ مضمون میں نے اس لئے اس نہج پر چلایا ہے کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی ہے میں اسلامی تعلیم کے فلسفہ سے ، اس کے پس منظر سے، اس کی گہرائیوں سے، اس کے ماضی سے ، اس کے حال سے ، اس کے مستقبل سے آپ کو آگاہ کروں اور اُس غیر تہذیب کے خطرات سے بھی آپ کو پوری طرح متنبہ کروں جو آپ کی آزادی کے نام پر آپ کو جہنم کی طرف بلا رہی ہے۔آخرت کے جہنم کی بات میں اس وقت نہیں کر رہا اس دنیا کے جہنم کی بات کر رہا ہوں۔اگر اسلامی تہذیب نے اُس رنگ میں جس رنگ میں احمدیت نے اس کو سمجھا ہے اور اس زمانے میں امام مہدی پر