اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 64

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات مسیح ۶۴ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء تیسری بات جو قابل توجہ ہے وہ ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا عني أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ کہ ہمیں ہماری ذریات کی طرف سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک پہنچانا۔اولاد کی تربیت کا ایک گر ہمیں اس میں سکھایا گیا۔اول یہ کہ اولاد کی تربیت دُعا کے بغیر ممکن نہیں۔اگر آپ دُعا سے کام نہیں لیں گی تو یہ خیال کر لینا کہ اولا دآنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوگی، یہ بالکل ناممکن ہے۔اور جب دعا سے کام لیں گی تو ماں باپ اور نئی نسل کے درمیان مودت کے رشتے اس طرح قائم ہو جائیں گے کہ Generation Gap اُڑ جائیں گے بیچ میں سے۔جب آپ کی اولاد آپ کے لئے قرۃ العین بن جائے ، آنکھوں کی ٹھنڈک ہو، اور یہ مقصد آپ کے پیش نظر رہے کہ آپ نے اپنی اولاد کو بھی آنکھوں کی ٹھنڈک بنانا ہے تو عائلی زندگی میں صرف ایک Space پیدا نہیں ہوتی یعنی میاں بیوی کے تعلقات کے نتیجے میں جو حال سے تعلق رکھنے والے تقاضے ہیں، بلکہ مستقبل سے تعلق رکھنے والے تقاضے بھی آپ کی زندگی میں مؤثر کردار ادا کرنے لگتے ہیں اور آئیندہ نسلوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کا ایسا مضمون شروع ہو جاتا ہے جو لا متناہی ہو جاتا ہے۔آج اگر یورپ کے مسائل کو دیکھیں اور یورپ کے دکھوں اور مشکلات کو دیکھیں ، جن کی طرف کسی Women's Lib کی توجہ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی منتقل نہیں ہوئی۔بلکہ اس کے نتیجہ میں یہ مسائل اور بڑھ رہے ہیں۔وہ یہ ہے کہ گھر ٹوٹ رہے ہیں۔نہ صرف یہ کہ میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوتے چلے جارہے ہیں۔بلکہ ماں باپ کے اولاد سے تعلقات خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اولا دکسی صورت میں بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہی نہیں رہی۔الا ماشاء اللہ بہت کم ہیں ایسے گھر جہاں اولا د بھی تک آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔یورپ کے بعض ممالک میں نسبتا جو اولا داور ماں باپ کے تعلق بہتر ہیں۔مثلاً انگلستان میں ، میں نے جب موازنہ کیا ہے، انگلستان میں نسبتا زیادہ بہتر تعلقات ہیں ، لندن کو چھوڑ کر، اگر ان کے دیہاتی علاقوں میں آپ جائیں، تو گھریلو زندگی کی حفاظت یہاں نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔یا سپین میں جنوبی یورپ میں بعض ممالک میں آپ کو یہ تعلقات زیادہ بہتر نظر آئیں گے۔مگر وسطی یورپ اور شمالی یورپ میں تو اتنی خطر ناک حالت پہنچ چکی ہے کہ جوان ہونے کے بعد اولا د ماں باپ کو نہیں دیکھ سکتی اور ماں باپ اولا د کو نہیں دیکھ سکتے اور جرمنی میں اور بعض دیگر ممالک میں ہمارے احمدی دوستوں نے ، جو مقامی باشندے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ بہت ساری صورتوں میں جب اولاد بڑی ہو تو ماں باپ کو تکلیف دیتی ہے یہ بات کہ وہ اُن کی روٹی توڑ رہے ہیں اور جب وہ کمانے لگ جائیں تو اصرار ہوتا ہے کہ با قاعدہ