اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 647
حضرت خلیفہ مسیح الرائع کے مستورات سے خطابات ۶۴۷ بن جاتے ہیں۔خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء ایک روایت اسماء بنت یزید انصاری کی ہے وہ ایک دفعہ ان کے بیان مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عورتوں کی نمائندہ بن کر آئیں اور عرض کیا کہ حضور ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں عورتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مردوں اور عورتوں سب کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ہم عورتیں گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں اور مردوں کو یہ فضیلت اور موقع حاصل ہے کہ وہ نماز با جماعت، جمعہ اور دوسرے مواقع اجتماع میں شامل ہوتے ہیں۔نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔حج کے بعد حج کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جب آپ میں سے کوئی حج ، عمرہ یا جہاد کی غرض سے جاتا ہے تو ہم عورتیں آپ کی اولاد اور آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں اور سوت کات کر آپ کے کپڑے بنتی ہیں۔آپ کے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔کیا مردوں کے ساتھ ہم ثواب میں برابر کی شریک ہو سکتی ہیں؟ جبکہ مرد اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسماء کی یہ باتیں سن کر صحابہ کی طرف مڑے اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا! کہ اس عورت سے زیادہ عمدگی کے ساتھ کوئی عورت اپنے مسئلہ اور کیس کو پیش کر سکتی ہے؟ صحابہ رضوان اللہ نے عرض کیا۔حضور ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرائے میں اپنا مقدمہ پیش کرسکتی ہے۔پھر آپ اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے خاتون ! اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو ان کو جا کر بتا دو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔ایک روایت مسند حضرت امام احمد بن حنبل سے مروی ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ نے بیان کی ہے۔اَنَّ أَسْمَاءِ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَىٰ عَنْهُمَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ کہ اسماء بنت ابی بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں آئیں کہ وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اعراض کیا اور فرمایا اے اسماء ! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی اور حصہ نظر آوے۔ایک روایت ابوداؤد سے حضرت عبداللہ بن عباس کی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم