اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 648

حضرت خلیفہ صیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۴۸ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء نے ایسی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ایسے مردوں پر بھی لعنت بھیجی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔یہ آج کل کے زمانے میں رواج ہے کہ مرد عورتوں کی طرح اپنے بال بڑھا لیتے ہیں اور عورتیں مردوں کی طرح بال کٹوا لیتی ہیں۔مجھے بھی ایک بچی ملنے آئی تھی اس کا یہی حال تھا اس کو میں نے نصیحت کی۔اس نے توبہ کی اور مجھے کہا کہ اب میں جا کر اپنے بال بڑھالوں گی۔تو اس قسم کے لطیفے بھی بہت مشہور ہیں کہ ایک آدمی اچانک غسل خانے میں گیا غلطی سے وہاں کوئی اس قسم کی عورت نہا رہی تھی تو اس نے کہاExcuse me Sir معاف کرنا بھائی میری غلطی ہوگئی ہے۔یہ رواج ہے زمانے کا بگڑا ہوا۔اس سے احمدی خواتین کو پوری طرح تو بہ کرنی چاہئے اور احمدی مردوں کو بھی۔ایک ابن ماجہ ابواب النکاح سے روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کسی انصاری عزیزہ کی شادی کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ کچھ تحفے تحائف بھی بھجوائے ہیں؟ عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھجوائے ہیں۔حضور نے فرمایا کیا گانے والیاں بھی بھیجی ہیں؟ حضرت عائشہ نے کہا کہ نہیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! انصار ایسے موقعوں پر گانے پسند کرتے ہیں تمہیں چاہئے تھا کہ انہیں ایسی گانے والیاں بھیجتیں جو کہتیں: آتَيْنَا كُمُ آتَيْنَا كُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ یہ شعر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت بنا کر اُن کو سکھایا۔ترجمہ یہ ہے۔ہم تمہارے ہاں آئے ہیں تمہیں خوش آمدید کہنے کے لئے۔پس خوش آمدید کہو۔بخاری کتاب النکاح سے ایک روایت خالد بن زکوان کی ہے کہ ربیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے روز تشریف لائے اور میرے بچھونے پر تشریف فرما ہوئے۔جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو۔ہماری کچھ بچیاں ڈھولک کی تھاپ پر جنگ بدر میں اپنے شہید ہونے والے بزرگوں کے نوحے گارہی تھیں کہ اچانک ان میں سے ایک لڑکی یہ پڑھنے لگی ہمارے اندر ایک ایسا نبی موجود ہے جو کل کی بھی بات جانتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہو ہاں جو پہلے پڑھ رہی تھیں وہ بیشک پڑھتی رہو۔ایک اور روایت حضرت عائشہ صدیقہ کی ابن ماجہ سے مروی ہے۔حضرت عائشہ اور حضرت