اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 646

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۴۶ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء ایک روایت حضرت عائشہ صدیقہ کی ہے کہ مومن عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آتیں تھیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کی آزمائش کی جاتی تھی اور شرک نہ کرنے ، چوری اور زنانہ کرنے کی بیعت لی جاتی تھی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو مومن عورتوں میں سے اس کا اقرار کرتی تھی تو گویا وہ ایک مشکل امر کا اقرار کرتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عورتوں سے ان کی زبان سے یہ عہد لیتے تھے تو آپ ان کو فرماتے تھے اب جاؤ میں نے آپ کی بیعت لے لی۔اور خدا کی قسم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بیعت میں کسی عورت کے ہاتھ سے مس نہیں ہوا کیونکہ آپ تھورتوں سے زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے سوائے اس عہد کے جس کا اللہ نے حکم دیا اور کوئی عہد نہیں لیا اور آپ ان سے بیعت لے کر فرماتے تھے میں نے تم سے زبانی بیعت لے لی۔ایک مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت امیمہ بنت رقیقہ کی روایت ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ایک ترندی کتاب الاستیذان سے حضرت اسماء بنت یزید کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں سے گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔آپ نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو سلام کیا۔بخاری کتاب العلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ عورتوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کی ملاقات کے بارہ میں مرد ہم پر غالب آگئے ہیں۔پس آپ ایک دن ہمارے لئے خاص طور پر مقرر فرماویں۔آپ نے ایک دن ان کے لئے مقررفرمایا جس میں آپ ان سے ملاقات فرماتے تھے۔آپ اُن کو وعظ فرماتے تھے اور ارشادات فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی عورت نہیں ہے جو اپنے تین بچے آگے بھجواتی ہے مگر وہ اس کے لئے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں تو فرمایا ! ہاں خواہ دو ہی کیوں نہ ہوں۔اس سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت جو اپنے بچوں کی وفات پر صبر سے کام لیتی ہے وہی بچے ان کے لئے بعد میں نجات کا موجب