اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 645
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۴۵ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء آنحضور ﷺ کی عورتوں کو زریں نصائح (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج کے خطاب کے لئے میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض نصیحتیں جو آپ نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں دیں، وہ پیش کرتا ہوں۔یہ بعض صحابیات کو انفرادی طور پر بھی آپ نے نصیحت کی اور بعض دُعائیں دیں اور بعض ایسی بھی صحابیات کا ذکر ہے جنہوں نے شہادت کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا دی وہ بعینہ لفظ بہ لفظاً بعد میں پوری ہوئی اور اجتماعی طور پر بھی صحابیات سے آپ نے خطاب فرمایا ہے با رہا۔پہلی روایت ابوداؤد کتاب الجنائز سے لی گئی ہے۔حضرت اُسیڈ ایک بیعت کرنے والی صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت جو عہد اُن سے لیا اس میں یہ بات بھی تھی کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی ، ماتم کے وقت نہ اپنا چہرہ نو چیں گی اور نہ واویلا کریں گی، نہ اپنا گریبان پھاڑیں گی اور نہ اپنے بال بکھیر دیں گی۔ایک دوسری روایت میں ، مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے تو اس وقت آپ نے ان سے یہ عہد بھی لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔عورتوں نے کہا کہ کچھ عورتوں نے جاہلیت میں ہماری مرگ پر بین کرنے میں ہماری مدد کی تھی ( ہم جاہل ہوا کرتی تھیں تو جاہل عورتیں اسی طرح اپنے سابقہ رواج کے مطابق بین کیا کرتی تھیں اور ہماری مدد کیا کرتی تھیں) کیا اب ہم اسلام کی حالت میں ان کی مدد کرسکتی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس قسم کی کوئی مدد جائز نہیں۔