اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 641
حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات مسیح ۶۴۱ خطاب کیکم جولائی ۲۰۰۰ء گیا ہے کہ بعض لوگ کھلا پانی بہاتے ہیں نہاتے وقت بھی ، وضو کرتے وقت بھی پرواہ ہی نہیں کرتے کہ بریکار پانی ضائع ہوتا چلا جارہا ہے۔اس پہلو سے میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ بہت قناعت کی کوشش کی ہے اور بچوں کو بھی قناعت سکھانے کی کوشش کی ہے۔یہاں تک کہ جو کاغذ استعمال کرتے ہیں منہ صاف کرنے کے لئے ٹشو پیپر وغیرہ میں اس پر بھی قناعت کرتا ہوں۔یہ میرے بچے حیران ہو کر مجھے دیکھتے ہیں یہ کون سی پاگلوں والی قناعت ہے کہ ٹشو پیپر تو اس قابل ہی نہیں کہ اس کو استعمال کر کے کوئی تھوڑی دیر رکھا جائے۔وہ تو استعمال کیا اور پھینکتے چلے گئے۔استعمال کرتے چلے جاؤ اور پھینکتے چلے جاؤ لیکن ان کو سمجھ کبھی نہیں آتی کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں جو قناعت ہے وہ بڑی بڑی چیزوں میں قناعت کا گر سکھاتی ہے۔اس لئے میں لجنہ اماءاللہ انڈونیشیا سے درخواست کرتا ہوں کہ گھر میں قناعت کیا کریں اس کے نتیجہ میں بہت سے کئی فوائد اور بھی ہوں گے، مثلاً بعض عورتیں خاوندوں سے شکوہ کرتی رہتی ہیں ہر وقت ان کو طعنے دیتی رہتی ہیں کہ تم گھر میں لائے کیا ہواب میں کیا پکا کر تمہیں کھلاؤں حالانکہ اس کے نتیجے میں خاوند ظالم بن جاتے ہیں عورتوں کو دبانے کے لئے سختی سے کام لیتے ہیں پس ایک بدی ایک دوسری بدی کو پیدا کر دیتی ہے۔آپ اگر خاوند کے لئے گھر میں قناعت کر کے کچھ بچائیں اور جو کچھ بھی ہے وہ پیش کریں اچھا پیش کریں تو اس سے بہت برکت پڑتی ہے۔میں آپ کو اپنے بچپن کا یہ واقعہ سناتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں با قاعدہ بہت ہی قناعت پر عمل ہوتا تھا اور حضرت مصلح موعود کی بیویاں ہفتے میں پانچ دن یا پانچ دن کے قریب جو ان کی باری نہیں ہوتی تھی وہ ہم بچوں کوسوکھا پھیکا جو کچھ بھی ہے وہ کھانا کھلاتی تھیں اور قناعت کی تعلیم دیا کرتی تھیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہی کافی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض بچے بڑے بڑا بھی کرتے تھے، بولتے تھے یہ کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے دال پر دال کھلا رہی ہیں۔ویسے انڈونیشیا کی دال بہت اچھی ہوتی ہے اس کے خلاف میرا کوئی اعتراض نہیں۔آپ لوگ بہترین دال پکاتے ہیں اور ہم بڑے شوق سے اس کو کھاتے بھی ہیں لیکن بہر حال قناعت کا سبق دے کر وہ جو پسند دال کیا کرتی تھیں وہ حضرت مصلح موعودؓ کے کھانے پر خرچ کر دیا کرتی تھیں اور جب حضرت مصلح موعود کی باری ہمارے گھر ہوا کرتی تھی وہ ہمارے لئے عید کا دن گویا ہوتا تھا کہ ہمیں بہترین کھانا اس وقت ملتا تھا کیونکہ ہماری ماؤں نے حضرت مصلح موعود کی خاطر ہمیں یہ سکھایا تھا۔ہر ایک کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے حضرت مصلح موعود کا مزاج اس پہلو سے منفر دتھا۔آپ کو کھانے میں ذرا بھی اونچ نیچ ہو تو کھانا چھوڑ دیا کرتے تھے۔نمک تیز ہو جائے یا نمک کم ہو جائے ، مرچ تیز ہو یا