اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 640
حضرت خلیفہ انسخ الرابع کے مستورات سے خطابات مسیح ۶۴۰ خطاب کیم جولائی ۲۰۰۰ء علاج سورۃ والعصر میں یہی بیان فرمایا گیا ہے کہ صبر کے ساتھ زمانے کو نصیحت کرتے چلے جاؤ اور صبر کی نصیحت کرتے چلے جاؤ۔رحم کی نصیحت کرو اور صبر کے ساتھ رحم کی نصیحت کرتے چلے جاؤ۔اس کے نتیجے میں وہ زمانہ جو نقصان اٹھانے والا زمانہ ہے ، سارا زمانہ نقصان میں ہے ، اس میں مومنین نقصان نہیں اٹھائیں گے اور وہ صبر سے چمٹے رہیں گے تو ان میں ایک عظیم پاک تبدیلی پیدا ہوگی جو دوسروں کو بھی تبدیل کر سکے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صبر کا ایک بہت عظیم حصہ عطا کیا گیا ایسا کہ اس کے نتیجہ میں آپ کے خون کے پیاسے دشمن آپ پر جان نثار کرنے پر ہر دم تیار رہتے تھے۔ایسی عظیم مثالیں ہیں آپ کے دشمنوں کا حلیم دوست بن جانے کی یعنی جانثار دوست بن جانے کی کہ ساری تاریخ انبیاء میں ایسی مثال آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے کے سوا کہیں دکھائی نہ دے گی۔غیر معمولی طور پر قربانی کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب سے زیادہ صبر اور قربانی کرنے والے تھے۔آپ نے بڑے بڑے خطرناک دشمنوں کو اپنا ایسا دوست بنایا کہ وہ اپنے خون کا آخری قطرہ آپ پر شار کرنے پر ہمیشہ تیار رہتے تھے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارا خون کا ہر قطرہ کام آ گیا۔اسلامی تاریخ میں مختلف غزوات میں اس کی بے انتہا مثالیں ملتی ہیں۔مگر میں نے عمداً اس وقت ان سے اعراض کیا ہے کیونکہ بارہا یہ مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں لیکن اب آپ کو سمجھانے کی خاطر میں نے دوبارہ ذکر کا اعادہ کیا ہے۔ابھی چونکہ اس تقریر کا ترجمہ بھی ہونا ہے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ تھوڑے وقت میں اس خطاب کو ختم کروں اس لئے آخر پر میں قناعت کے متعلق آپ کو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قناعت ایک جو نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے قناعت ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ خدا کی طرف سے آپ کو عطا ہوا اس کے اندر رہنے کی عادت کو قناعت کہتے ہیں اور بہت سے غریب قناعت شعار ایسے ہیں جن کی ساری زندگی بڑے وقار سے گزری اور قناعت کے ذریعے جو کچھ انہوں نے تھوڑا تھوڑا بچایا گھر میں اس کے ذریعے آگے ان کی اولاد کا مستقبل بن گیا۔قناعت ہر چیز میں ہونی چاہئے۔پانی کی بات ابھی چل رہی تھی ، پانی کے استعمال میں بھی قناعت ہونی چاہئے۔دیکھا