اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 639
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۳۹ خطاب کیکم جولائی ۲۰۰۰ء بچپن ہی سے آپ کہنا ماننے کی عادت بچوں میں راسخ کر دیں گی تو بڑے ہو کر آپ کے سارے تربیتی مسائل حل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ عادت جو ایک دفعہ بچپن میں پختہ ہو جائے تو پھر عمر بھر انسان کی روح میں پیوستہ ہو جاتی ہے۔اور آخری بات جو سب سے آخر پہ بھی ہے لیکن پہلی بھی ہے وہ ہے دعا۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا دعا پر بہت زور دیا کرتی تھیں اور عمر بھر ہمیشہ دعائیں کرتیں رہیں اور دعاؤں کے سہارے ہی آپ کی اولادکو روحانی امور میں ترقی نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تو اوڑھنا بچھونا دعا تھی وہی دعا حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سیکھی یعنی دعا کرنے کی عادت اور دن رات دعا کرتی رہتی تھیں۔ہم بچپن میں جب حضرت اماں جان کے صحن سے کبھی گزرتے تھے تو آپ کی ہر نظر دعا بن کر ہم پر پڑتی تھی۔کئی دفعہ پیار سے بلا لیتی تھیں اور جو کھانا اگر اس وقت کھا رہی ہوں کچھ اس میں سے ایک لقمہ ہمارے منہ میں ڈالتی تھیں اور دعائیں دیتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نیک نصیب بنائے۔تو آپ بھی اسی طرح بچوں سے حسن سلوک کریں پیار سے ان کی تربیت کرنے کی کوشش کریں۔زبردستی کی تربیت نا جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے خلاف بہت سخت تنبیہ کی ہوئی ہے۔آپ کے زمانے میں اسکولوں میں بچوں کو مارنا سختی سے ممنوع تھا بعد کے زمانے میں بھی بعض اساتذہ اپنے مزاج کی سختی کے وجہ سے جب بچوں کو مارتے تھے۔اگر ان کی اطلاع حضرت مصلح موعودؓ کو پہنچے تو آپ بہت سختی سے ان کو منع کیا کرتے تھے اور سزا دیا کرتے تھے۔تو بچوں کو مارنا ایک بہت بری عادت ہے بچپن سے آپ ان کو بغاوت سکھاتی ہیں اگر ان کو ماریں گی تو بچے معصوم بیچارے ڈر کر آپ کی بات تو مان جائیں گے اس وقت لیکن دل میں بغاوت کا شیطان اُٹھ کھڑا ہوگا اور وہ اس وقت تہیہ کر لیتے ہیں کہ جب تک ماں باپ کا زور چلتا ہے چلے اور آخر ہم نے بڑے ہونا ہے پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم پر کیسے دھونس جمائی جاتی ہے اس لئے بہت ہی اہم ایک گر ہے بچوں کی تربیت کا ان کے لئے دعا کریں، ان پر رحم کا سلوک کریں ، شفقت کا سلوک فرمائیں جو بچے قابو نہ آئیں اور ہاتھ سے نکلتے جائیں ان کے لئے بھی صبر کے ساتھ دعا کرتی رہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کے صبر کے نمونے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بہت بڑی بڑی فتوحات عطا فرماتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ تبلیغ وتربیت کا قرار دیا ہے۔صبر سے قوموں کی کایا پلٹ جاتی ہے۔اس زمانے میں جو تمام برائیاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ان کا