اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 588

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۸۸ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء اب ایک اور بات میں نے بیان کی تھی کہ فَنَعَتِ الابِلُ وَالشَّاةُ مَالَتْ لِمَاوَاهَا وَاقَبْلَتْ نَحْوَ اَصْحَابِهَا قناعت ایک معنی یہ ہے کہ سارا دن کام کرو اپنی روزی کماؤ جو بھی کرنا ہے رات کو ضرور اپنے گھر کی طرف لوٹ آؤ اپنی پناہ گاہ کی طرف لوٹ آؤ۔پس پرندے، چرندے جب اپنی پناہ گاہ کی طرف لوٹتے ہیں تو یہ بھی ان کی قناعت ہے۔اس میں قناعت کا کیا مضمون ہے؟ دو باتیں ہیں:۔اول یہ کہ جتنا دن کے وقت میسر آ گیا اس پر راضی رہو۔جانوروں سے بھی یہ گر سیکھو کہ وہ بھی تو جتنا خدا دن لمبا کرتا ہے جتنا ان کومل جاتا ہے اسی پر راضی ہو جاتے ہیں۔جتنا دن چھوٹا کرتا ہے جتنا ان کو ملتا ہے چھوٹے دن اسی پر راضی ہو جاتے ہیں۔تو دنوں کی لمبائی تو اولتی بدلتی رہتی ہے۔بعض دنوں میں ویسے بھی رزق میں کمی ہوتی ہے۔خزاں کے دن ہوتے ہیں ان میں گھاس نسبتا کم ملتا ہے، پتے کم ملتے ہیں مگر جانور پھر باہر نہیں بیٹھے رہتے۔وہ واپس اپنے گھر کو ضرور لوٹتے ہیں۔اپنی اولاد اور اپنے بچوں کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ جب تک خدا چاہتا ہے ان کو باہر رہنے کا حق ہے کیونکہ وہ لازماً مختلف کاموں میں مشغول ہوں گے کچھ طالبعلم ہوں گے، کچھ کام کرنے والے ہوں گے لیکن اس کے بعد اپنے گھروں کو ضرور لوٹیں اور گھروں کو اپنی آماجگاہ سمجھیں۔قناعت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اپنے گھر پر قانع ہو جائیں اور جولوگ اپنے گھروں پر قانع نہیں ہوتے وہ بازاروں میں آوارہ گردیاں کرتے پھرتے ہیں۔خاوند ہوں، کسی کے بچے ہوں یا بچیاں ہوں جو بھی اپنے گھروں پر قانع نہیں ہوں گے اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ پھر باہر قانع ہوتے ہیں اور آوارہ گردی اس کا ایک طبعی قطعی نتیجہ ہے تو اونٹوں اور بھیڑ بکری سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سبق دیا۔ان کو قانع اس لئے قرار دیا ہے اہل لغت نے کہ یہ قناعت کا مرکزی معنی ان پر چسپاں ہو رہا ہے جو دراصل انسان کے لئے ہے۔سب سے زیادہ اہمیت لفظ قناعت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے لئے ہے۔جیسا کہ بھیڑ بکریاں قناعت کرتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کیوں قناعت نہیں کرتے۔ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ اللہ کی مرضی پر راضی رہتے ہوئے اتنا عرصہ باہر رہیں جتنا عرصہ رہنا ضروری ہے پھر اپنے گھر میں جا کر سکون پائیں۔قناعت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جو کچھ اس کو گھر میں ملے اس پر راضی ہو جائے بعض دفعہ یہ ہوا کرتا ہے کہ باہر کے ماحول میں زیادہ اچھی نعمت کی چیزیں ملتی ہیں، بعض اداروں کی طرف سے ہر قسم کی سہولتیں مہیا ہوتی ہیں اس کے بعد غریب بچوں کا گھر میں آرام پانا ایک مشکل کام نظر آتا ہے۔یہی حال غریب بچیوں کا ہے گھر میں لوٹیں گی ایک