اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 589
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۸۹ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء ٹوٹے پھوٹے گھر میں لوٹیں گی جس میں ان کے آرام کے وہ سارے سامان موجود نہیں جو باہر کی سوسائٹی ان کے لئے مہیا کر رہی ہے۔یہاں قناعت کا یہ معنی ہوگا کہ جب اُس گھر میں لوٹو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسی پر راضی ہو جو کچھ گھر میں ہے۔سوچو کہ خدا نے یہ کچھ دیا ہے اس پر قناعت کرو اور جو اللہ کی خاطر قناعت کرتا ہے قرآن کریم کی دوسری آیات سے ثابت ہے کہ ان کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور قناعت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بہت رزق میں کشائش عطا فرماتا ہے۔پس غریب بچوں کو اپنے غریبانہ گھر پر راضی ہو جانا چاہئے اور اس میں یہ سوچ کر سکون حاصل کرنا چاہئے کہ میرے اللہ نے دیا ہے۔اگر یہ نہیں سوچیں گے تو ان کو قناعت نصیب ہو ہی نہیں سکتی۔جب اللہ پر نظر ہو اور اللہ سے پیار ہو اور یہ پیار آپ نے پیدا کرنا ہے، یہ نظر ماؤں نے بچوں کو عطا کرنی ہے اس صورت میں ان کو کسی اور کے سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی جب وہ بڑے ہوں گے تو ہمیشہ اپنے گھر ہی کو اپنا آخری مسکن بناتے ہوئے بڑے ہوں گے اور جو بھی ماحول میسر ہے اس پر قناعت کریں گے۔ایک فرق ہے اس قناعت میں اور باہر کی چیزوں میں آرام ڈھونڈنے میں جو گھر کی قناعت ہے اس میں بہت سی ایسی چیزیں ملتی ہیں جو باہر مل سکتی ہی نہیں کیونکہ گھر کی قناعت میں سچی محبت ملتی ہے۔اس محبت کو دنیا بھر میں ڈھونڈتے پھریں وہ سچی محبت نہیں مل سکتی کیونکہ وہ محبت جو ان کو نظر آتی ہے وہ لوگوں کی خود غرضی کی محبت ہوتی ہے۔وہ چند دن اپنے مزے لوٹنے کی خاطر محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر گھر میں جو مائیں محبت کرتی ہیں یا جو باپ محبت کرتے ہیں وہ تو کسی خود غرضی کے لئے نہیں کرتے۔وہ ایک طبعی رحم ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ڈال رکھا ہے اور یہ چیز ان کو باہر میسر آ ہی نہیں سکتی۔پس قناعت کی تعلیم دیتے وقت یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ ایسی تعلیم نہیں جو تم سے تمہارے حق چھین رہی ہے۔تمہیں رہنے کے سلیقے سکھا رہی ہے۔تمہیں بہت کچھ جو تمہیں باہر نصیب نہیں ہوسکتا وہ گھروں میں نصیب ہے۔نظر تو ڈال کر کبھی غور تو کرو، فکر تو کرو۔اس پہلو سے آپ کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی آپس کی محبت کا بھی خیال رکھیں اور بہت سی مائیں میں نے دیکھی ہیں جو خیال رکھتی ہیں اور مجھے ان کے بچوں کا طرز عمل دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے اور تسکین ملتی ہے۔میں مثلاً بچوں کو ان کی تربیت کی خاطر چاکلیٹ دیا کرتا ہوں جب وہ ملتے ہیں تو میں نے دیکھا ہے کہ بعض بچے فوراً اپنا چا کلیٹ جو دو ان کے لئے ہوتے ہیں ان میں سے ایک اپنے بھائی کو دے دیتے ہیں یا اپنی بہن کو دے دیتے ہیں۔لپک کر جاتے ہیں تا کہ ان کو بھی دے دیں ان کو میں سمجھاتا ہوں کہ تمہارے لئے اور