اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 587

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۸۷ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء خدا کرے گا کہ کتنا دینا ہے مگر اس فیصلہ کے اندر آپ کا تذلل اور آپ کا مانگنا بھی تو شامل ہے اس کے بعد وہ فیصلہ کرتا ہے۔پس بعض لوگ ایسے فقیر ہوتے ہیں جو ہٹتے ہی نہیں جب تک کہ ان کو مل نہ جائے۔خدا تعالیٰ سے بھی بعض دفعہ انسان کو اسی قسم کا فقیر بنا پڑتا ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک بزرگ کو عادت تھی وہ مدتوں سے سالہا سال سے ایک دعا مانگے چلے جارہے تھے اور ہر دفعہ جب وہ دعا مانگتے تھے تو آواز آتی تھی نا مقبول۔تیری دعا ہم نے قبول نہیں کی۔قریباً ۳۰ سال کا عرصہ گزر گیا ان کو اسی طرح دعائیں مانگتے ہوئے اور پیچھا نہیں چھوڑا اللہ کا۔خدا تعالیٰ یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ یہ لوگ بھی قانع ہیں۔یعنی قناعت کا ایک معنی یہ ہے کہ مالک ہے وہ جتنادے اس پر راضی رہو۔نہ دے تو اس پر بھی راضی رہو، پس یہ نہایت لطیف معنی قناعت کا اس روایت سے ثابت ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کھولنی تھی اس لئے ان کے مرید کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ تم بھی اس پہنچے ہوئے بزرگ کیسا تھ عبادت کرو، چند راتیں ان کے ساتھ کھڑا ہوا کرو۔اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید دنیا کو پتہ بھی نہ چلتا کہ ان کا کیا حال تھا۔وہ چند دن تین دن کے متعلق آتا ہے غالباً کہ وہ پاس کھڑا ہوا۔وہ دعائیں کرتے تھے تو ساتھ کا آدمی سنتا بھی تھا بعض دفعہ انسان اگر چہ سرگوشی میں بات کر رہا ہوتا ہے لیکن ساتھ والے آدمی کو آواز آرہی ہوتی ہے۔وہ سنتا رہا کہ کیا دعائیں مانگ رہے ہیں اور ہر دعا کے بعد جو الہام ہواوہ اس نے بھی سنا۔وہ تھا کہ تیری دعا ئیں نا مقبول ہمیں کوئی دعا قبول نہیں کر رہا۔تیسرے دن وہ تھک گیا کیونکہ قانع نہیں تھا اس کو قناعت کا یہ مضمون معلوم ہی نہیں تھا کہ قناعت کا مطلب ہے کہ مالک جو چاہے دے جو چاہے نہ دے اس پر قناعت کرے چنانچہ وہ بول پڑا۔اس نے کہا آپ عجیب انسان ہیں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے میں نے نہیں قبول کیا اور آپ ضد چھوڑ ہی نہیں رہے اور بار بار وہ دعائیں مانگ رہے ہیں۔عین اس وقت بڑی شدت کے ساتھ یہ الہام ہوا کہ اے میرے بندے! میں نے تیری ساری عمر کی دعائیں قبول کر لیں۔اس کو کہتے ہیں قناعت۔یعنی خدا کی مرضی پر قناعت کر جانا۔مانگتے چلے جانا ، مانگتے چلے جانا نہیں چھوڑ نا اس کا پیچھا۔پھر وہ جو بھی دے اس پر راضی ہو جاؤ۔پس آپ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ اس رنگ میں دعائیں کیا کریں۔مانگتے رہیں مانگتے رہیں، پھر اللہ کی مرضی ہے کہ وہ نہ دے تو پھر بھی راضی ہو۔اس کو ع قناعت کہتے ہیں۔جس طرح حضرت مصلح موعود عرض کرتے ہیں۔راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو یہ قناعت کا ایک مضمون ہے جو نہایت عمدگی کیساتھ حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا۔