اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 552
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۵۲ خطاب ۶ ار ا گست ۱۹۹۷ء حال تھا کہ ازواج مطہرات کو جانتے تھے سمجھتے تھے، ان کی بار یک فطرت پر نگاہ تھی۔اب حضرت عمر نے سمجھا کہ اگر اشرفیوں کے طور پر تھیلیاں گئیں تو یہ بالکل قبول نہیں کریں گی اس لئے کھجوروں کے بہانے تھیلیاں بھیجتا ہوں شاید اس میں سے کچھ کام آجائیں۔حضرت سودھا نے یہ فرمایا اس تھیلی میں کیا ہے۔غالباً ایک تھیلی تھی اس تھیلی میں کیا ہے۔اس نے کہا درہم ہیں۔بولیں کجھور کی تھیلی اور اس میں درہم بھیجے جاتے ہیں یہ کہہ کر اسی وقت تمام درہم پورے کے پورے تقسیم کر دیئے آپ کھالیں بنانا جانتی تھیں یعنی کھالوں پر کام کرنا آپ کھالیں بنایا کرتی تھیں اور جو بھی آمد ہوتی تھی اسے تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔یہ ازواج مطہرات تھیں جو آپ کے لئے نمونہ ہیں، جو ہمارے لئے نمونہ ہیں، قیامت تک کے لئے یہ نمونہ بنی رہیں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان ازواج کے علاوہ ان میں حضرت فاطمہ کو بھی داخل فر مایا اور ان کو بھی ہمیشہ کے لئے امت کے لئے تحفہ قرار دیا مگر میں سر دست اس ذکر کو ختم کرتا ہوں۔حضرت فاطمہ اور دیگر خواتین جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ پایا ان کے نمونے کی چند باتیں میں انشاء اللہ آئندہ کسی وقت آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس وقت اسی پر بس ہے۔اب آپ اگر اپنے لئے کوئی بڑائی چاہتی ہیں، ایسی بڑائی جو آسمان تک پہنچے روئے زمین پر نہ رہے، وہ بڑائی جو عرش معلی تک جا پہنچے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں کی پیروی کریں۔ان جیسا بننے کی کوشش کریں ، ان کی صفات کو باریک نظر سے دیکھیں جیسا کہ میں نمونہ آپ کو دکھا رہا ہوں اور پھر اس پیار کی نظر سے دیکھیں کہ آپ کا دل کھینچا چلا جائے ، آپ بے اختیار ہو جا ئیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج کے نمونے کو اپنا لیں۔ایسی صورت میں جوارد گرد کا ماحول ہے آپ پر کوئی خاک بھی اثر نہیں کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وہ ازواج مطہرات جو گھر میں بیٹھ رہیں اور وہ ازواج جو باہر نکلا کرتی تھیں وہ ساری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت اور آپ کی پیدا کردہ عصمت کی چار دیواری میں رہتی تھیں۔جہاں بھی جاتی تھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دعائیں آپ کی تربیت اور وہ عصمت کی چاردیواری جو آپ نے ان کے لئے بنادی تھی جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ملتا ہے کہ اپنے گھروں کو پکڑ رکھنا۔اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کی جاسکتی کہ گھر چار دیواری کو پکڑ رکھیں۔مراد یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو گھروں میں رہنا مگر محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو عصمت کی چار دیواری آپ کے لئے بنائی ہے اس سے باہر قدم نہ رہے۔بس آج میں آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں کہ آپ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواتین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ملک میں