اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 551

حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات ۵۵۱ خطاب ۶ ار ا گست ۱۹۹۷ء ہمارے سامنے رکھتا ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے حضرت سودہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کا وہ جذبہ دیکھا تھا جو آپ کو کہیں اور دکھائی نہیں دیا۔حضرت سودہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جو عشق تھا وہ اطاعت میں ایسا ڈھل گیا تھا کہ کبھی کسی بیوی نے اطاعت کے مضمون میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایسا حق ادا نہیں کیا جیسا حضرت سودہ ہمیشہ کرتی رہیں۔آپ نے حجہ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،مراد یہ تھی کہ بازاروں میں نہ پھرنا، گھر کو پکے رکھنا۔یہ مرا تو ہر گز نہ تھی کہ گھر میں ہی بیٹھ رہنا نکل کر باہر کا منہ نہ دیکھنا۔حضرت سودہ کو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کی ایسی لگن تھی کہ آپ کے منہ سے جو لفظ نکلتے تھے بعینہ وہی کرتی تھیں۔جانتی ہوں گی کہ یہ مراد نہیں ہے مگر جو سنا تھا وہ یہی سنا تھا کہ گھر سے نہ نکلنا۔چنانچہ گھر کی ہو بیٹھیں اور تاوفات اپنے گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم نہ نکالا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر حج پر روانہ نہ ہوئیں اور یہ بتایا کہ دیکھو خدا کی اطاعت اپنی جگہ ہے اگر میں حج اور عمرہ نہ کر چکی ہوتی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یہ کہنے کے باوجود میں حج کے لئے ضرور جاتی۔اب یہ جو باریکیاں ہیں جو اصل میں نمونہ ہیں اگر چہ حضرت سودہ نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی مگر روایت صرف اتنا بتا رہی ہے کہ آپ نے باقی ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں حج اور عمرہ دونوں کر چکی ہوں اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر بیٹھوں گی۔چنانچہ اس کے اندر غور سے پڑھیں جو بات نکلتی ہے وہ میں نے آپ سے بیان کی ہے۔یہ مضمون صاف بتا رہا ہے کہ حضرت سودہ نے اگر حج اور عمرہ نہ کیا ہوتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد کے باوجود کہ گھر بیٹھو پھر بھی نکل کھڑی ہوتیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت اللہ کی خاطر کرو محض خاوند کی جھوٹی اطاعت نہیں تھی چنانچہ اس پر نتیجہ بھی یہ نکالا فرمایا میں کر چکی ہوں اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھوں گی۔ایک خدا کا حکم ہے حج کرنے کا وہ میں کر چکی ہوں۔دوسرا حکم ہے میرے آقا و مولا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ، اس کو بھی خدا کا حکم مجھتی تھیں اور بالا حکم پہلے اس کی فرمانبرداری کر بیٹھی ہیں کہتی ہیں اب میں خدا کا وہ حکم مانوں گی جو محمد کی زبان سے جاری ہوا اور ساری عمر گھر سے قدم باہر نہ نکالا۔اتنی سخی تھیں ایسی جود وسخا تھی آپ کی ذات میں کہ دنیا میں ایسی کم سخاوت والی عورتیں دکھائی دیتی ہیں جو کچھ آتا تھا وہ غریبوں میں بانٹ دیا کرتی تھیں اور آپ کی عزت اور غیرت کو دیکھتے ہوئے ایک دفعہ حضرت عمر نے آپ کو اشرفیوں کی تھیلیاں بھجوائیں لیکن وہ کجھور کی تھیلی میں ڈال کر۔اب یہ عجیب لطیف واقعہ ہے۔حضرت عمرؓ کا یہ