اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 550
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۶ ار ا گست ۱۹۹۷ء پر کیسی آزمائش ہے ، ان کی عقلیں بھنا گئی ہیں، ان میں سوچنے کی طاقت نہیں رہی ، آپ آگے بڑھیں اور اپنی قربانی کریں، پھر دیکھیں ان کا کیا حال ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُٹھے اور حضرت ام سلمہ کے مشورہ کے مطابق اپنی قربانی کی طرف بڑھے اور اس کی گردن پر چھری پھیر دی۔روایت بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ اس قدر کہرام مچا تھا گویا ان کی گردنوں پر چھریاں چل رہی ہیں وہ لیکے ہیں اپنی اپنی قربانی کی طرف اور الٹی سیدھی جس طرح بھی بن پڑی اس میدان میں انہوں نے اپنی تمام قربانیاں ذبح کر دیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ثابت کر دیا کہ ام سلمہ سچ کہتی تھیں۔ہم بیوفاؤں میں نہیں ہیں۔ہمارے دماغ معطل ہو گئے تھے۔جب آپ نے چھری پھیری تو یوں لگا جیسے ہماری گردنوں پر چھری پھیری جارہی ہے۔پس حضرت ام سلمہ کو یہ عظیم مقام حاصل ہے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے فر است عطا فرمائی تھی۔آپ صحابہ کے حال کو جانتی تھیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحیح انتخاب فرمایا تھا کہ ام سلمیٰ کو ساتھ لے کر چلیں۔کیسی بار یک نظر سے بیویوں کے حالات کو دیکھا یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان ہے۔لوگ بیویوں سے اچھی توقعات تو کرتے ہیں مگر ان بیویوں کو کون سا خاوند نصیب ہے اور کیسا خاوند نصیب ہے اس پر نظر نہیں کرتے۔پس آپ ضرور خدیجہ بنے کی کوشش کریں۔آپ ضرور عائشہ بنے کی کوشش کریں۔بن سکیں تو ام سلمہ بنیں۔لیکن اپنے خاوند کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پر ضرور چلانے کی کوشش کریں۔اگر وہ نہیں چلیں گے تو نہ آپ خدیجہ بن سکتی ہیں نہ آپ عائشہ بن سکتی ہیں اور نہ ام سلمہ۔یہ محض ایک فرضی قصے ہوں گے۔اب حضرت سودہ کی بات کرتا ہوں کیونکہ کہتے ہیں کہ وقت ختم ہونے والا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں۔مَامِنَ النَّاسِ اَحَبُّ إِلَى اَنْ اَكُونُ فِي مَثْلِتِهَا مِنْ سَوْدَةً کہتی ہیں کہ سوده ایک ایسی خاتون تھیں رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک بیوی تھیں کبھی میرے دل میں یہ خواہش نہیں ہوئی کہ میری روح کسی اور عورت کے قالب میں اُتر آئے مگر سودہ کے متعلق مجھے ضرور یہ خواہش ہوئی تھی کہ کاش میری روح سورہ کے دل میں اتر جاتی اور سودہ کے بدن میں رہتی۔اتنا عظیم الشان خراج تحسین ہے حضرت سودہ کو اس سے بڑا خراج تحسین آپ سوچ بھی نہیں سکتیں اور حضرت عائشہ کا یہ خراج تحسین دینا آپ کی فراست کو بھی اجاگر کرتا ہے۔یعنی اجا گر تو تھی اسے نمایاں کر کے