اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 534
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۴ خطاب ۶ ار اگست ۱۹۹۷ء ان کے اصلی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔تو یہ محض دھو کے ہیں ان کی پیروی نہ کریں جو حقیقتیں میں آپ کے سامنے رکھوں گا ان کو اپنانے کی کوشش کریں۔۔انگلستان کے خطاب میں میں نے حضرت خدیجہ کا ذکر شروع کیا تھا مختصر آیاد کرادوں کہ میں نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کی تیسری شادی تھی اور آپ کا نام خدیجہ طاہرہ تھا اس لئے کہ طاہرہ آپ کی پاکیزگی کی وجہ سے اور آپ کی عصمت کی حفاظت کی وجہ سے آپ کو کہا جاتا تھا۔آپ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اوّل سے آخر تک ایسی مددگار ر ہیں کبھی کسی اور خاتون کو کسی خاوند کی وفاداری اور مددگار ہونے کا ایسا دعویٰ نہیں ہوا۔جس کو جبرائیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے پہنچ کر تسلیم کیا ہو اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دل ہمیشہ وفات تک اس خدیجہ کو یاد کرتا رہا ہو۔جس نے اپنا سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر قربان کر دیا وہ خدیجائیں بننے کی ضرورت ہے ہر گھر کو ایسی خدیجاؤں کی ضرورت ہے جو نیکی پر فدا ہوں اگر ان کے خاوند نیک ہیں تو ان نیکوں کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار بیٹھیں اور اگر ان کے خاوند نیک نہیں ہیں تو ان کو نیک بنانے کی کوشش کریں لیکن اس مضمون کو اب میں حضرت خدیجہ کے حوالے سے اور آگے بڑھاتا ہوں۔حضرت خدیجہ کے متعلق حضرت عائشہ نے ایک دفعہ، میں یہ عرض کر دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کو اتنا یاد کیا کرتے تھے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ زچ ہو کر یہ کہا، کہ آپ کیا اس بوڑھی عورت کو یاد کرتے رہتے ہیں اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی عطا فرمائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! اللہ کی قسم اللہ نے اس سے بہتر بیوی مجھے عطا نہیں کی۔وہ جو آپ سے عمر میں بڑی تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہجرت ہوئی مدینہ کی طرف اس سے دو تین سال پہلے حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر ۵۳ سال کی تھی ہجرت کے وقت حضرت خدیجہ آپ سے بڑی عمر کی تھیں تقریباً ۱۵ سال۔اب اندازہ کریں کہ اس عورت سے آپ کی وفا کا منبع سوائے محبت الہی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ بوڑھی عورت جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسی وفا کی کہ آپ کی زندگی میں کوئی اور شادی نہیں کی اور عملاً اس کی بیوی کی حیثیت بہت پہلے سے یعنی عورت کی ازدواجی حیثیت پہلے سے ختم ہو چکی تھی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دشمنان اسلام جو الزام رکھتے ہیں کہ آپ نے بہت سے بیویاں کیں گویا آپ اپنے نفس کے نعوذ باللہ