اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 533
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۳ خطاب ۶ اسراگست ۱۹۹۷ء لئے سب سے پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے کی خواتین ہی کی ضرورت ہے پھر ان کی باتیں کریں اور انہیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کیسے دیکھا کیسے آپ پر جانیں نچھاور کیں کیسے ہمیشہ کے لئے انہیں کی ہو کر رہ گئیں۔انہی کی باتیں سن کر شاید بعض بچیوں کے دل میں نئے ولوے پیدا ہوں ، شاید بعض دلوں میں ہیجان برپا ہو اور وہ سوچیں کہ کاش ہم بھی اس وقت ہوتیں یا ہم بھی آج انہیں کے نمونے پکڑیں غرضیکہ یہ ایک نصیحت کا ایسا طریق ہے جو دلوں کو متحرک کرتا ہے زبانی طور پر آپ کو بہت کچھ کہا گیا ہے یہ کرو اور یہ نہ کرو وہ کرو اور یہ نہ کرو لیکن ایسی باتیں بچیاں جب اپنے بڑوں سے سنتی ہیں تو عملاً ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہیں کہ جی اگلے وقتوں کے لوگ ہیں پرانی باتیں کرتے ہیں۔ان کو کیا پتہ کہ اب زمانہ کس نہج پر چل پڑا ہے، اب تو دنیا کے حالات بدل چکے ہیں، اب تو نئے نئے لذتوں کے اور دلچسپیوں کے تقاضے ہیں جو باہر ہمیں بھینچ رہے ہیں۔ہمارے سارے سکول کے بچے اور کالج کے بچے سکول کی بچیاں اور کالج کی بچیاں اور ہی سمت میں بھاگے جارہے ہیں ہمیں کیوں روک رہے ہیں۔اپنے ماں باپ کی یا اپنے بڑوں کی نصیحت کا عموماً یہی اثر ہم نے دیکھا ہے لیکن جو نمونے میں آپ کے سامنے رکھوں گا ان نمونوں کو سن کر دلوں کی کایا پلٹتی ہے۔دلوں میں ہیجان پیدا ہوتا ہے انسان اس دنیا کومحض اس دنیا ہی کی زندگی سمجھتا نہیں بلکہ اس دنیا کو اگلی دنیا سے پیوست دیکھتا ہے گویا ایک ہی تسلسل ہے۔یہاں آنکھیں بند ہوئیں اور وہاں آنکھیں کھل گئیں جو کچھ یہاں انسان کھوتا ہے اس سے بہت زیادہ آگے پانے کا یقین دل میں بیٹھ جاتا ہے اور اس بناء پر ہر شخص کے دل سے معلم اٹھ کھڑا ہوتا ہے ایک نصیحت کرنے والا ہے جو اسے نصیحت کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ تم نے اپنا قبلہ کیا بنانا ہے۔یہ قبلے جو میں آپ کو دکھاؤں گا ان کے مقابل پر وہ سینوں پر چھپے ہوئے قبلے دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گی کہ وہ کیا چیزیں تھیں جن میں آپ کا دل انکا ہوا تھا نہایت لغو، بے معنی بے حقیقت چیزیں۔ایسی صورتیں جو آپ کبھی بن نہیں سکتیں اگر بن جائیں تو اپنی دنیا بھی برباد کریں گی۔اور آخرت بھی برباد کریں گی کن لوگوں کے پیچھے چل پڑی ہیں، کن لوگوں کو اپنا نمونہ بنا بیٹھی ہیں وہ لوگ جن کی دنیا میں بھی کوئی حقیقت نہیں ، ان کے اپنے دلوں میں آگ لگی ہوئی ہے، ہر وہ کوشش کر بیٹھتے ہیں کہ وہ دنیا کمانے کے نتیجے میں اس کی لذتیں حاصل کر سکیں مگر لذتیں حقیقت میں ان سے دور بھاگتی ہیں۔بہت سے ایسے ہیرو ہیں ، بہت سی ایسی ہیروئن ہیں جو خود کشیاں کر کے مرجاتے ہیں ان کے جب حالات اخباروں میں چھپتے ہیں، جب ان کے مقدمے بنتے ہیں تو پھر آپ کو