اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 535
حضرت خلیہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۵ خطاب ۶ ار ا گست ۱۹۹۷ء من ذالک غلام تھے اس سارے اعتراض کو ان اعتراضات کو دور کرنے کے لئے صرف ایک خدیجہ کافی ہیں۔جب تک وہ زندہ رہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کسی اور طرف نگاہ نہیں کی۔کسی عورت کا تصور تک دل میں نہیں لائے اور آپ کی عمرا ۵ سال اس وقت ہو چکی تھی جب حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی ہے۔فرمایا: خدا کی قسم اس سے بہتر بیوی مجھے عطا نہیں کی گئی۔وہ اس وقت میرے پر ایمان لائیں میری صداقت پر ایمان لائیں جبکہ سب نے میری تکذیب کی صرف خدیجہ تھیں جو پہلی بار میری وحی کوسن کر میری حمایت میں اُٹھ کھڑی ہوئیں اور میرا کوئی معین اور مددگار نہیں تھا۔آپ میری معین اور مددگار بنیں اللہ نے مجھے اولا د بھی عطا فرمائی اسی خدیجہ سے اولا د عطاء فرمائی حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت سے پہلے ہی توحید کی نعمت سے نوازا تھا اور عرب خواتین میں آپ موحدہ ہونے کے لحاظ سے مشہور تھیں ایک خدا کی قائل تھیں اور ہر بت سے روگردانی کر بیٹھی تھیں۔مسند احمد بن حنبل میں آتا ہے۔وَكَانَتْ لَهُ وَزِيرٌ مُصَدِّقُ عَلَى الْإِسْلَامِ کہ وہ اسلام کے متعلق آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی مشیرہ تھیں۔ابو ہریرہ کی روایت صحیح مسلم میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول یہ خدیجہ آرہی ہے اس کے پاس برتن ہے جس میں کھانا ہے جب آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو ان کے رب کا اور میر اسلام پہنچائیں اور انہیں جنت میں ایک ایسے محل کی بشارت دیں جو موتیوں کا ہوگا جس میں کوئی شور اور بے آرامی نہیں ہوگی۔یہ جو حضرت خدیجہ کے متعلق کوئی شور اور بے آرامی نہیں ہوگی۔کیونکہ آپ نے شعب ابی طالب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جو ساتھ دیا ہے بہت ہی سخت بے آرامی اور تکلیف کا دور تھا شاید اسی کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کو موتیوں کا ایک محل عطا ہوگا یاد رکھیں یہاں موتیوں سے مراد ظاہری موتی نہیں ہیں بلکہ موتیوں سے مراد ایسے صاف ستھرے پاکیزہ خوبصورت مجسمے ہیں گول شکل کے جن کو ہم دنیا میں موتی کہتے ہیں جو سپی کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں غیر معمولی پاکیزگی پائی جاتی ہے تو موتی ایک پاکیزگی اور روشنی کا نشان بن جاتا ہے۔پس مراد یہ ہے کہ حضرت خدیجہ کو جنت کے محل کی ایسی خوشخبری دی گئی ہے جس میں غیر معمولی چمک دمک ہوگی اور وہ پاکیزہ اینٹوں سے بنایا گیا ہوگا۔ہم اینٹیں کہتے ہیں مگر اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا چیزیں ہوں گی یقیناً اس دنیا کی اینٹیں تو نہیں ہوں گی نہ ہی اس میں دنیا کے موتی ہوں گے مگر اپنی چمک دمک اور پاکیزگی کے لحاظ سے ان کی مشابہت موتیوں سے