اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 522
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۲۲ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء اور پھر یہ کام اتنا بڑھ گیا کہ مجبوراً مجھے جرمنی میں بھی ایک ریسرچ ٹیم قائم کرنی پڑی ، جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت پھیل گئی ہے۔تو تمام دنیا میں اس وقت اگر اسلام کے حق میں کوئی ریسرچ کا کام ہورہا ہے، تو یہ احمدی بچیاں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ، یہ جوابی حملہ کر رہی ہیں۔ان میں سے چند کے نام مجھے یاد ہیں۔جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔باقی کثرت سے آتی جاتی رہتی ہیں۔آتی جاتی اس لئے کہ خدا کے فضل سے شادیاں اچھی ہو رہی ہیں اور آئے دن کسی ریسرچ ٹیم کی لڑکی کی شادی کی خبر سنتا ہوں۔اس وقت تو السلام علیکم وعلیکم السلام کے سوا کچھ اور بس نہیں چلتا مگر میں ان کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں بھی جائیں خوش رہیں مگر ریسرچ کا کام نہ چھوڑنا اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ ساری جانے والیاں جو ہم سے تربیت پاچکی ہیں، وہ اپنے اپنے وقت میں اس تربیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھی ، ریسرچ کے کام کو کبھی چھوڑیں گی نہیں۔ان میں سب سے پہلے تو نویدہ شاہ ہیں۔نویدہ شاہ بھی ہیں نویدہ شاہد بھی۔یہ ہمارے ایران کے خاندان میں بیاہی ہوئی ہیں جن کا نام شاہد ہے۔سید عاشق حسین صاحب کے بیٹے ہیں۔نویدہ شاہد کو اللہ تعالیٰ نے چیزیں Organize کرنے کا بڑا سلیقہ دیا تھا۔چنانچہ سب سے پہلا انچارج میں نے ریسرچ ٹیم کا ان کو بنایا اور انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ ریسرچ ٹیموں کو سب جگہ نافذ کیا اور میری ہدایت ان تک پہنچاتی رہیں۔دوسری جو بچی ہے وہ شیلا احمد ہے۔یہ بھی شادی کی وجہ سے اب ہم سے کچھ ہٹ گئی ہے، لیکن پھر بھی جب تک اس کی شادی نہیں ہوئی، بہت اچھا کام کیا۔یہ مطلب نہیں کہ باقیوں کی شادی نہ ہو۔اللہ کرے جلد جلد شادیاں ہوں مگر شادیوں کے بعد بھی جن کو توفیق مل سکتی ہے، ان کو ملنی چاہئے۔کئی ایسی بچیاں ہیں جو شادی شدہ تھیں، پھر ریسرچ میں شامل ہوئیں۔ان کا ہمیں کوئی نقصان نہیں کیونکہ وہ انہی حالات میں وقت نکالا کرتی تھیں اور دن بدن کام میں آگے بڑھی ہیں، پیچھے نہیں ہیں۔ان بچیوں میں جو نمایاں ریسرچ کا کام کرنے والی ہیں ان میں ایک ہماری ماہا در بوس تھیں جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ Egyption ہیں اور جو ریسرچ میں حضرت بی کے متعلق کروارہا ہوں اس میں ماہا در بوس نے غیر معمولی کام کیا ہے اور اسی کام کو ہم لوگ آگے بڑھا رہے ہیں۔فوزیہ شاہ ہیں ، جو شروع سے ریسرچ کے کاموں میں شامل ہیں اور صوفیہ صفی ہیں جنہوں نے شادی کے بعد کسی حد تک کام چھوڑ دیا تھا اب کچھ واپس آرہی ہیں۔غازی خاندان کی بچیاں ہیں۔یہ تبلیغ کے میدان کی بھی غازی ہیں اور تحریر اور علمی تحقیق کی بھی غازی ہیں۔ان میں فریدہ