اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 521
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۲۱ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء پوچھا تمہارے اوپر کام کا بوجھ زیادہ ہے، گھر پر بچے بھی ہیں دوسرے بھی ہیں تو کچھ کم نہ کر دوں؟ تو حیرت سے کہا یہ آپ جزاء دے رہے ہیں؟ میری خوشیاں رد کر رہے ہیں؟ خدا کے لئے ایسا نہ کریں۔مجھے تو جتنا مزہ اس کام میں آتا ہے کسی اور زندگی کے کام میں نہیں آتا۔میں نے کہا آئندہ سے میں کم کرنے کے لئے نہیں کہوں گا۔یہ احمدی خواتین ہیں جو اس دور میں اٹھ رہی ہیں۔دنیا کے پردے پر اس کی کوئی مثال نہیں اور خاموش ہیں، کوئی کسی سے جزاء نہیں چاہتیں۔ان کے نام اچھالے نہیں جاتے۔خط لکھنے والے ان کے شکوے تو بعض دفعہ کرتے ہیں کہ آپ کی خط لکھنے والی نے یہ غلطی کر دی اور وہ غلطی کر دی۔اس لکھنے والے کو یہ نہیں پتہ کہ اس نے جو ایک آدھ خط لکھا تھا اس میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔یہ ہزار ہا خطوط ہر مہینے میں پڑھتی بھی ہیں لکھتی بھی ہیں اور کبھی ایک غلطی نظر آ جائے تو آپ کو معاف کرنا نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزاء دے۔جہاں تک ریسرچ ٹیموں کا تعلق ہے میں آپ کو بتا تا ہوں کہ اس کا آغا ز بھی لنڈن ہی سے ہوا تھا۔ہاں کام کرنے والیوں میں مسٹر ونڈر لینڈ کا نام بھی میں لینا چاہتا ہوں۔وہ بھی شروع سے آخر تک بڑی وفا سے اس کام کو چھٹی ہوئی ہیں۔Research Team کا آغاز بھی انگلستان سے ہوا کیونکہ مجھے ضرورت محسوس ہوئی کہ اسلام کے دفاع کے لئے ، عیسائیت کے مطالعے کے لئے ، بائبل کے مطالعہ کے لئے جس قسم کاResearch کا کام ہونا چاہئے تھا ہمارے ہاں ویسا کا من نہیں بلکہ اور ڈگر پر کام چل رہا ہے۔ہمیں ضرورت ہے بہت ہی اہم مسائل میں ریسرچ کر کے، ان کے اوپر جوابی حملے کرنے کی اور میں نے پہلی دفعہ جو ٹیم بنائی تھی اس کو میں نے نصیحت کی تھی کہ دیکھو یہ سب لوگ، جو بڑے بڑے علماء کہلاتے ہیں۔انہوں نے تمام دنیا میں مختلف مذاہب کی کتب کے اوپر تبصرے کئے ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی گویا تفسیریں لکھی ہوئی ہیں مگر کیا تم کبھی کسی مسلمان کو بھی دیکھو گے کہ اس نے بائبل کی تفسیر لکھی ہو؟ یہی وہ بنیادی نقص ہے جس کی وجہ سے یہ حملوں میں شیر ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ احمدی خواتین یہ جوابی حملہ کریں۔جس طرح مسجد لندن بنانے میں احمدی خواتین کو دخل تھا۔میں نے ان بچیوں سے جو پہلا خطاب کیا، میں نے کہا اب تمہارے سپر د میں اسلام کے حق میں جوابی حملہ کر رہا ہوں اور پہلی ٹیم اگر چہ تھوڑی سی ،مگر اس قسم کے مضامین میں ریسرچ شروع ہوئی وہ مضامین اتنے پھیلتے چلے گئے کہ اب ان بچیوں کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ سارا کام اپنے پاس ہی رکھیں۔چنانچہ لندن سے زیادہ انگلستان کی دوسری شاخوں میں انہوں نے اپنی اپنی شاخیں قائم کیں