اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 484

حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۸۴ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء کی یاد کا وقت آتا ہے تو اس وقت انسان سو جاتا ہے۔تھکا ہارا، ساری رات کا باتیں کر کر کے ٹوٹا ہوا بدن لے کر آخر وہ آرام سے سو جاتا ہے اور اس کو علم نہیں کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ تہجد کے وقت کی تلاوت اور تہجد کے وقت کی اللہ کی یاد ایک امر مشہود ہے۔یعنی یہ وہ وقت ہے جب خدا انتظار کرتا ہے کہ میرے بندے مجھ سے پیار کرنے والے اُٹھیں گے اور میرے ذکر کے لئے باقی سب سے الگ ہو جائیں گے۔وہ ایسے اٹھیں گے کہ اپنی بیویوں کو بھی پتہ نہیں چلنے دیں گے۔خاموشی سے اپنے بستروں سے الگ ہو جائیں گے اور بیویاں بھی اس طرح اٹھ کر ایک الگ گوشہ سنبھالیں گی جہاں اُن کے خاوندان کی آوازیں نہیں سکتے۔بچے ماں باپ سے الگ کونوں میں گھسیں گے اور کوئی جگہ سجدے کے لئے تلاش کریں گے۔یہ وہ وقت ہے جس کو قرآن کریم مشہوداً فرماتا ہے۔اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ( بنی اسرائیل : ۷۹ ) یعنی اس وقت فرشتے بھی انتظار کرتے ہیں اور اللہ بھی اپنے پیاروں کا انتظار کرتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت اور پیار کی باتیں کریں۔لیکن یہ وقت انسان اکثر نیند کی حالت میں بسر کر دیتا ہے۔تو یہ دل کی گواہی ہے یہ حقیقت کی گواہی ہے۔اس کے سوا سب باتیں فرضی باتیں ہیں۔پس جب اس حالت میں آپ خدا سے تعلق باندھیں اور جب مصیبت پڑے تو خدا کی طرف دوڑ میں تو پھر آپ کا شکوہ کیا حق رکھتا ہے کہ ہم نے تو بہت دعائیں کیں اللہ جواب ہی نہیں دیتا۔ہمارا بچہ بہار تھا، ساری رات اس کے حضور روئے لیکن اُس نے بات نہ سنی۔ہماری ماں سکتے سسکتے مرگئی لیکن خدا نے ہماری کوئی بات نہ سنی۔کیسا خدا ہے جب ہمیں ضرورت پڑتی ہے ہماری بات کا جواب نہیں دیتا۔یہ حقیقت خوب اچھی طرح اپنے ذہن نشین کر لیں اور اس بات کو سمجھ لیں کہ وہ تعلق جو آپ خدا سے باندھنا چاہتے ہیں مرد ہوں یا عورتیں وہ تعلق فی الحقیقت آقا اور غلام کا تعلق ہے۔خدا کو نوکر بنا کر رکھنے کی جو بد عادت انسانوں کو ہے یہ اُس وقت تنگی ہوتی ہے اس وقت کھل کر سامنے آتی ہے جب آپ آوازیں دیتے ہیں اور آگے سے جواب نہیں ملتا۔کبھی آپ نے غور کیا کہ نوکر کا مقام کیا ہے نوکر کا مقام یہ ہے کہ جب آپ اپنی مجلسوں میں مصروف ہوں، اپنی پیار کی باتوں میں ہوں تو نوکر پرے ہٹ جائے اور اس کے وجود کا احساس تک آپ کو نہ ستائے۔آپ کی خلوتوں میں نوکر کا تصور بھی دخل نہ دے۔لیکن جب ضرورت پیش آئے تو آپ کی ایک آواز پر لبیک کہتا ہوا کہیں سے دوڑتا ہوا آ جائے۔کیا امر واقعہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بندے عموماً یہی سلوک کرتے ہیں۔جب اپنے اچھے دن