اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 483
حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۸۳ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء زندگی بھر تو نہیں ہوتا۔اس وقت ہوتا ہے جب زندگی ہاتھ سے جارہی ہوتی ہے۔پس سب سے پہلے تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا زندگی میں اس شعور کو پیدا کرنے کا کبھی کوئی موقع آپ کو میسر آئے گا کہ نہیں۔آئے گا تو کیسے آئے گا اور اگر یہ حقیقت ہے کہ خدا کے سوا ہر دوسری چیز ہمارے دل کی چاہت ہے۔ہمارے دل کی تمناؤں کا مرکز ہے۔تو پھر خدا سے محبت کیسے پیدا ہوگی۔کیا انسان ہمیشہ اس جھوٹی زندگی میں ہی اپنی جان گنوا بیٹھے گا کہ منہ سے کہتا رہے کہ اللہ سب سے پیارا ہے اور دل آواز میں دیتا رہے کہ اللہ کے سوا ہر دوسری چیز پیاری ہے۔پس اس حقیقت کو اپنے روزمرہ کے تجربے میں پرکھ کر دیکھیں اور بیدار تو ہوں ، غور کر کے اپنے نفس کا جائزہ تو لیں آپ کون ہیں اور کس سے پیار کرتے ہیں۔جب بھی آپ اپنے بچوں کو دیکھتی ہیں ، ان کے لئے دل میں بے انتہا محبت کا جذ بہ پھوٹتا ہے یعنی اکثر ماؤں کے دلوں میں سوائے ان ماؤں کے جن کے دل بعض دفعہ بچوں کے لئے بھی سخت ہو چکے ہوتے ہیں۔اپنے پیاروں سے ملتی ہیں دل میں بے اختیار جذ بہ اُٹھتا ہے اور اپنے پیاروں کی طرف جانے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کی تمنا ایک طبعی حقیقت ہے۔اگر وہ نہ بھی ہوں تو ان کا ذکر پیارا لگتا ہے۔جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے:۔تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا جب اپنے پاس کوئی اپنا محبوب نہ بھی ہو۔اس کا ذکر دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔اسکی یاد دل میں جگہ لے لیتی ہے اور اسکے ذریعے ہی انسان اپنا دل بہلاتا ہے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ جب کوئی نہ ہو تو خدا ہو۔جب کوئی نہ ہو تو خدا کی یاد دل کو ستائے اور اسکی تمنا دل میں تڑپے اور اس سے پیار کی باتیں کی جائیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ایک بہت بڑا خلا ہے جو آپ کے دل میں ہے۔آپ کی ساری زندگی ایک خلا کے سوا اور کچھ نہیں۔جس سے پیار ہو اس کی صحبت میں انسان جانا چاہتا ہے بیٹھنا چاہتا ہے۔اس سے تنہائی میں باتیں کرنا چاہتا ہے اور پیار اور تنہائی کا ایک گہرا تعلق ہے۔لیکن جب انسان مثلاً جلسے کے دنوں میں اپنے دوستوں ، عزیزوں اور اقارب سے ملتا ہے تو بسا اوقات رات کا اکثر حصہ جاگ کر گزار دیتا ہے۔اور مجلسیں لگتی ہیں اور دل خوش ہوتے ہیں کہ شکر ہے اللہ کا بڑے دنوں کے بعد یہ پیارے دن ہے آئے جب ہمارے عزیز ، محبت کرنے والے جن سے ہمیں محبت تھی دور دور سے سفر کر کے آئے اور جب خدا