اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 485
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۸۵ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء ہوں تو گویا خدا کے بُرے دن آجاتے ہیں۔جب اپنی آسائش کے وقت ہوں تو اللہ تعالیٰ کو ان مجلسوں میں دخل دینے کا موقع ہی نہیں ملتا نہ اجازت دی جاتی ہے۔جب تکلیف کا موقع ہو، ضرورت کا موقع ہوتو پھر آوازیں دیتے ہیں کہ اے خدا ہماری مددکو اور اگر نہ آئے تو ناراضگی دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔کئی ایسے ہیں جنہوں نے مجھے لکھا کہ ہمارا بچہ چونکہ فلاں وقت امتحان میں ناکام رہا۔اُس نے دعائیں کیں پھر نا کام رہا۔پھر دعائیں کیں پھر ناکام رہاوہ دہر یہ ہو گیا۔وہ کہتا ہے کوئی خدا نہیں ہے۔اگر خدا ہوتا تو میری بات کیوں نہ سُنتا کیوں نہ میری بات کا جواب دیتا جبکہ میں نے بڑی گریہ وزاری سے، بڑی منت سے اس سے کوئی چیز مانگی تھی۔لیکن اس کو یہ خیال نہیں آتا کہ وہ دہریہ پہلے ہی تھا۔دہریت کی حقیقت کا اب اُسے علم ہوا ہے۔جب اُس کے اچھے دن تھے، اس نے خدا کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیا ہوا تھا۔اور خدا کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔تو جب مشکل کے دن آئے تو اس پر یہ حقیقت کھلی ہے کہ میرا دل پہلے بھی خدا سے خالی تھا اب بھی خدا سے خالی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سے غلام اور آقا کا تعلق اس طرح رکھا جاتا ہے کہ آپ غلام ہوں اور اللہ آقا ہو۔نہ کہ خدا غلام بنے اور آپ آقا ہو جائیں۔پس سب سے پہلے اپنے نفس کی حقیقت کو خوب اچھی طرح جانچ کر پہچاننا ضروری ہے۔اس کے بغیر انسان عرفان کا کوئی سفر بھی اختیار نہیں کر سکتا۔ہر شخص اپنے دل کو ٹولے، ہر عورت اپنے دل کو ٹولے، اپنی محبتوں کے مراکز کی تلاش کریں، کہاں کہاں ہیں۔کون کون ہیں جو اُ سے محبوب ہیں، کون کون ہیں جو اسکی محبتوں سے دور ہیں۔جن سے محبت ہے ان سے کیا دل چاہتا ہے۔کیسا کیسا قرب نصیب ہو۔اور جب ہر عورت اپنے علم اور اپنے دماغ اور اپنے قلب کی توفیق کے مطابق یہ معین کرلے کہ میں کس سے محبت کرتی ہوں کیوں کرتی ہوں۔تب خدا پر نظر ڈالے اور دیکھے کہ خدا کا کوئی خانہ اُس کے دل میں تھا کہ نہیں تھا۔اگر نہیں تھا تو دہریت کی یہ ایک بڑی ظالمانہ قسم ہے کہ خدا کی حقیقت ایک فرضی دنیا کی حقیقت بنی رہتی ہے۔اُس کے سامنے سر جھکتا ہے تو دراصل محض ایک مادی سر ایک بدنی سر جھکتا ہے۔روح کا سر نہیں جھکتا۔رُوح کا سر اس وقت بھی کسی اور جانب جھکا رہتا ہے۔انسان عبادت کرتا ہے بظاہر خدا کی عبادت کرتا ہے۔لیکن دل کی آرزوئیں اسے کسی اور طرف کھینچ رہی ہوتی ہیں۔عبادت میں جوش اُس وقت آتا ہے۔جب خدا کے سوا خدا سے کچھ اور چیزیں مانگی جائیں۔اور جب وہ چیزیں مل جائیں یا وہ ہیجان کا وقت گزر جائے تو پھر اللہ نظر سے غائب ہو جاتا ہے۔وہ خدا کا بندہ ہے جو بغیر ضرورت کے خدا کے سامنے جھکتا ہے۔خدا کا وہ بندہ ہے جب اُسے صرف خدا کی خاطر ، خدا کی