اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 482

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۸۲ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء امریکہ کے جلسے میں بھی جاری رہا۔پھر یو کے کے جلسہ میں بھی ختم نہیں ہوا تھا تو میں نے غالبا وہاں ذکر بھی کیا تھا کہ باقی مضمون میں انشاء اللہ جرمنی کے جلسے پر جاری رکھوں گا۔یہ ایک بہت ہی اہم مضمون ہے ، مذہب کی جان ہے، انسانی زندگی کی بقا اس مضمون کو سمجھنے اور اس مضمون کی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد عشق الہی میں مبتلا ہو جانے میں ہے۔یہ مضمون جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے۔جتنا اچھا دکھائی دیتا ہے اُتنا ہی لوگ فی الحقیقت اسے نا پسند بھی کرتے ہیں اور یہ عجیب تضاد ہے جس کا دور ہونا بہت ضروری ہے۔پس سب سے پہلے تو میں آپ کو اسی تضاد کی طرف متوجہ کرتا ہوں جب بھی آپ سے پوچھا جائے سب سے پیارا کون ہے تو آپ کہیں گے اللہ۔اپنے بچوں کو بھی آپ یہی سکھاتی ہیں اور جب ملاقات پر تشریف لاتی ہیں تو بسا اوقات مائیں مجھے خوش کرنے کے لئے اپنے بچوں سے پوچھتی ہیں کہ بتاؤ کون زیادہ پیارا ہے تو سیکھے سکھائے بچے کہتے ہیں کہ اللہ سب سے زیادہ پیارا ہے۔تو گویا بچپن ہی سے ہماری گھٹی میں یہ بات بودی جاتی ہے کہ اللہ سب سے پیارا ہے لیکن عملی زندگی میں جب بھی خدا کی محبت کے مقابل پر کوئی دنیا کی محبت آکھڑی ہو اپنے نفس کی محبت آکھڑی ہو ، اپنے عزیزوں اور پیاروں کی محبت آکھڑی ہو، تو دل ہر بار یہی فیصلہ کرتا ہے کہ خدا کے سوا ہر دوسری چیز ہمیں زیادہ پیاری ہے۔اور اللہ زبان سے پیارا ہے اور دنیا کی حقیقتیں دل سے پیاری ہیں۔یہ وہ تضاد ہے جو شرک کی بدترین قسم ہے اور اس تضاد کو سمجھے بغیر آپ اللہ تعالیٰ کی محبت کی حقیقت کو پانہیں سکتیں۔اس تضاد کو سمجھنے کے بعد ہی آپ اس بیماری کا علاج سوچ سکتی ہیں یا کرنے کی طرف متوجہ ہو سکتی ہیں۔ورنہ عمر بھر انسان اسی دھوکے میں مبتلا اپنی ساری زندگی دنیا کی محبت میں ضائع کر بیٹھتا ہے اور جب موت کا وقت آتا ہے تو اُس وقت سب محنت کے ساتھ اور سب کوشش اور توجہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہونے کے وقت ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔صرف ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ دنیا جس سے ہم نے محبت کی تھی وہ پیارے جو ہمیں بہت عزیز تھے، وہ لوگ جو ہم سے محبت کرتے تھے ہم ان سب کو پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں۔ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کبھی پھر ان کے منہ دیکھیں گے بھی کہ نہیں۔دنیا کی کمائی ہوئی سب چیزیں، دنیا میں محبت سے حاصل کی ہوئی سب جائیدادیں اور دولتیں ، وہ سارے زیورات جوز بینت بنتے ہیں ہر وہ چیز جو وجود کو پیاری ہے، وہ سب چیزیں اسی دنیا میں پیچھے رہ جاتی ہیں اور اس حقیقت کا احساس کہ یہ عارضی چیز یں تھیں اور عارضی چیز سے دل لگانا ایک جھوٹی کہانی ہے۔یہ احساس