اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 469
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء بچپن کا ہے۔یہ بچے آپ کی گودوں میں کھیلتے ہیں اگر اس وقت ان گھروں میں جہاں وہ آپ کی گودوں میں پل رہے ہیں۔میوزک کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں، ہندوستان کے گانے سنائے جارہے ہیں ، پاکستان کے سنائے جارہے ہیں اور انہی آوازوں سے گھر گونج رہا ہے تو وہم نہ کریں کہ وہ بڑے ہو کر اعلیٰ ذوق پالیں گے اور تلاوت کا ذوق ان کو حاصل ہو جائے گا اور پاکیزہ کلام کا ذوق ان کو حاصل ہو جائے گا۔یہ ایسے نقوش ہیں جو ایک دفعہ جم جائیں تو پھر پیچھا نہیں چھوڑتے۔پھر ان تختیوں کو صاف کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نصیحت فرمائی بچہ پیدا ہو تو بغیر انتظار کے فوراً اس کے دائیں کان میں اذان دے دو اور بائیں کان میں تکبیر کہہ دو۔اب بچہ تو اول تو عربی سمجھتاہی نہیں ؟ بڑے نہیں سمجھتے آج تو بچے نے کہاں سمجھنی ہے مگر جو عر بی جانتے بھی ہوں ماں باپ تو بچوں کو تو عربی ابھی نہیں آتی۔پہلی آواز اُن کے کان میں پڑھ رہی ہے اللہ اکبراللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر۔اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔بڑا پر شوکت اعلان ہے لوگ سمجھتے نہیں کہ خدا نے کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی راہنمائی فرمائی کہ بچے کے دائیں کان میں اذان دیا کرو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر سمجھیں یا نہ سمجھیں ذہن کی خالی تختیاں جس کلام سے سب سے پہلے بھرتی ہیں وہ ہمیشہ سب سے زیادہ غالب رہتا ہے اور بچپن کی عمروں میں جو تحریر میں ذہن پر لکھی جائیں خواہ اس کی سمجھ بعد میں آئے وہ تحریریں اپنا ایک ایسا نقش چھوڑ جاتی ہیں کہ بعد کی تحریریں ان کو پھر بدل نہیں سکتیں اور یہ فطرت کا ایک راز ہے جس کو آج تمام Psychologist سمجھ چکے ہیں اور اس کے متعلق تحقیقات کر کے ایک قطعی نتیجے تک پہنچے ہیں کہ بچپن کے زمانہ میں تو اگر کوئی چھ زبانیں بھی سکھا دو تو بچہ آرام سے سیکھ لے گا اور مادری زبان کی طرح سیکھے گا۔وہ کہتے ہیں کہ جب گیارہ بارہ سال کی عمر کا ہو اور اگر کوئی زبان نہ سیکھی ہو تو پھر کوئی بھی نہیں سیکھ سکے گا۔یعنی اس وقت وہ ذہن کی تختیاں مندمل ہو جاتی ہیں۔وہ پھر اثر قبول کرنے کے اہل نہیں رہتیں۔تو دیکھیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے فطرت کے شناسا تھے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کے گہرے راز آپ کو سمجھائے۔فرمایا پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان دو اور بائیں کان میں تکبیر پڑھو تو آپ کیوں اس سے نصیحت نہیں پکڑتیں کیوں نہیں سمجھتیں ؟ کہ بچپن کے ماحول میں بچے جو کچھ سنیں گے اس کا اثر قبول کریں گے اور اسی کا اثر قبول کریں گے بعد میں اگر آپ نے کوشش کی اُن کو سمجھانے کی کوئی طریق اختیار کیا تو کوششیں بے کار ہو جائیں گی لیکن بچپن سے جو ایک مزاج پیدا