اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 468
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۶۸ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء نہ ہو۔پس ”سبحان من بیرانی کا یہ معنی کہ تجھے ہر حال ہر وقت اپنے آپ کو دیکھتا ہوا پاتا ہوں میں کیسے تیری حمد اور تیری رضا سے باہر ہٹ جاؤں۔یہ سارے وہ مضامین ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشعار میں بڑے پڑاثر انداز میں بیان فرمایا ہے اور ایک ایک لفظ دل سے اُٹھا ہے ایک بھی ایسا نہیں جو دل سے نہ اُٹھا ہواور محض زبان سے جاری ہوا ہو۔یہ وہ سچائی ہے جس نے آپ کے شعروں کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔ایسا کلام ہے جو کبھی مر نہیں سکتا۔لاکھوں بار آپ اس کو سنیں یہ تو ہو سکتا ہے کہ نئے مضامین آپ پر ظاہر ہوں جو پہلے آپ سے مخفی رہے تھے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ سن کر آپ کہیں او ہو یہ تو ہم نے بہت دفعہ سن لیا ہے اب اس میں اور کچھ باقی نہیں رہا۔زندہ کلام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور وہ کلام جو محبت الہی سے زندہ ہوا ہو جو دل کی سچائی سے زندہ ہوا ہو، وہ لافانی بن جاتا ہے کبھی مرسکتا نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے ذاتی محبت پیدا کریں۔آپ کے اشعار کے ذریعہ یہ اور بھی زیادہ آسان ہو جائے گی۔کیونکہ شعر کا ایک رومانس سے تعلق ہے تبھی محبت کے اظہار کے لئے سب سے اچھا ذریعہ شعراء شعر پاتے ہیں۔شعر کے اندر اپنی ذات میں ایک ایسی نغمگی ہے کہ اس نغمگی کے ساتھ محبت کا مضمون مطابقت کھاتا ہے اور عام الفاظ میں جو بیان نہیں ہو سکتا وہ شعروں میں بیان ہوسکتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اگر چہ نثر میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان میں بہت ہی عظیم تحریر یں چھوڑی ہیں مگر شعروں میں جو بیان ہے اس کی شان ہی الگ ہے۔ایسی بے ساختہ محبت ایک ایک لفظ سے پھوٹتی ہے یہ ناممکن ہے کہ انسان اس کو غور سے پڑھے اور اپنے دل پر اس کو طاری کرے، اپنے دل پر اس کا اطلاق کرے اور پھر وہ محبت سے محروم رہ جائے۔مگر دل پر اطلاق کیسے کرے؟ یہ سب سے بڑی مشکل ہے کیونکہ اگر پاپ میوزک سے محبت ہوگئی ہوا گر گانے بجانے کے Record کے بغیر لڑکیوں کو نیند نہ آئے اگر کانوں میں ٹوٹیاں ٹھونسی ہوں اور چلتے پھرتے بھی وہ آوازیں آرہی ہوں تو بڑی۔مصیبت ہے ، خدا کی محبت کے لئے آپ نے جگہ کون سی چھوڑی ہے۔تو نیک باتوں سے پیار کے لئے وہ ذوق کیسے پیدا ہوگا ؟ اس لئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ حوالہ کل پیش کیا تھا کہ جب تک آفاقی اور نفسی نطق اپنے دل اور اپنے اندرون کو پاک نہیں کرتے اس وقت تک خدا کا نور تمہارے دل میں سما نہیں سکتا۔تو ذوق کی اصلاح بہت ضروری ہے اور ذوق کی اصلاح کے لئے کہاں سے انسان شروع کرے، کیسے شروع کرے؟ یہ مضمون ہے جو آج میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اول وقت اس کا