اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 470

حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء ہو چکا ہے اسے بدلنا پھر آسان کام نہیں رہے گا۔ہاں جو بچے اُن ماؤں کی گودوں میں پلتے ہیں جو اللہ کی محبت کی لوریاں دیتی ہیں کبھی وہ رسوا نہیں کرتا۔ناممکن ہے وہ بوڑھے بھی ہو جائیں موت کے وقت بھی ان کو اپنی ماں کی وہ اور یاں یاد آتی ہیں جو خدا کی محبت میں ان کو دیا کرتے تھے کیوں اس راز کو نہیں سمجھتیں کہ بچپن سے اپنے بچوں کے دلوں میں خدا کی محبت کے گیت نقش نہیں کر جاتیں۔ایسے نقش جو کبھی مٹ نہیں سکتے اور پھر جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے آپ اُن کو بتائیں اُن کو سمجھائیں کہ دیکھو یہ محبت الہی ہوتی ہے۔اس طرح خدا پیار کرنے والا ہے۔اگر ایسی تربیت آپ کریں گی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دُنیا کا کوئی معاشرہ اُن پر غالب آنے کی طاقت نہیں رکھتا۔اُن کو جہاں کہیں پھینک دیں وہ خدا انما وجود بن کر ابھریں گے اور الوہیت کو غیر اللہ پر ایک فوقیت حاصل ہے ایسی فوقیت کہ جیسے نور کو ظلمت پر ایک فوقیت ہوتی ہے۔کہنے کو تو آپ کہہ دیتی ہیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سننے کو آپ سن لیتی ہیں کہ نور غالب آجاتا ہے اور اندھیرے زائل ہو جایا کرتے ہیں مگر جب اندھیرے زائل ہوتے نہ دیکھیں تو اُس نور پر نظر ثانی کیوں نہیں کرتیں ؟ وہ نور تھا بھی کہ نہیں جسے آپ نو سمجھ بیٹھی تھیں۔اگر وہ نور ہے تو لازماً غالب آئے گا اور اللہ کی سچی محبت اگر آپ کے دل میں ہے تو ممکن نہیں ہے کہ غیر اللہ کی محبت اس پر غالب آجائے۔سب سے بڑا حفاظت کا نسخہ یہ ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی نسخہ نہیں۔پس بچپن ہی سے اپنی اور یوں کو خدا کی محبت میں ڈبو ڈبو کر ان کو سنائیں۔اُن کے کانوں میں وہ لوریاں اللہ کے عشق کی رس گھولیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کے گیت ان کو سنائیں اور خود سنیں گی خود یاد کریں گی تو سنا سکیں گی نا۔پس جہاں جہاں بھی لجنہ کی منظمات میری بات سن رہی ہیں وہ اس کی طرف توجہ کریں۔محض اس جلسے میں ایک نصیحت سے یہ کام ہونے والا نہیں ہے۔یہ لمبی محنت کو چاہتا ہے۔آپ کا فرض ہے کہ ماؤں کی تربیت کی طرف اس پہلو سے توجہ کریں کہ وہ مسلمان مائیں تو بن جائیں اگر وہ مسلمان مائیں نہیں بنتیں تو ان کے بچوں سے مسلمان بچے کیسے نکلیں گے، ان کی گودوں سے مسلمان بچے کیسے پیدا ہوں گے۔اس لئے یہ ایک فیصلہ کن بات ہے، دو ٹوک فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے اللہ کا ہونا ہے کہ نہیں ہونا اور اگر ہونا ہے تو آپ یاد رکھیں کہ آپ کو وہم ہے کہ دنیا کی لذات کو چھوڑ کر اللہ کی محبت کی لذت اختیار کرنا ایک قربانی ہے۔اس سے بڑا سودا ہی اور کوئی نہیں۔اس سے زیادہ نفع بخش سودا اور کوئی ممکن ہی نہیں ہے۔کوئی نسبت ہی نہیں ہے ان دونوں لذتوں میں۔